تیراہ کے پناہ گزین واپس گھروں کو لوٹ نہیں پائے

Image caption ’اس سے پہلے بھی حکومت نے کئی آپریشن کر کے علاقے کو ’کلیئر‘ کیا لیکن کچھ وقت کے بعد طالبان عسکریت پسند دوبارہ علاقوں پر قابض ہوجاتے ہیں‘۔ پناہ گزین

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادیِ تیراہ میں کئی ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران علاقے سے عسکریت پسندوں کے خاتمے، جنگ بندی اور اہم مقامات پر پاک فوج کے کنٹرول حاصل کرنے کے باوجود بھی، وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ رہے ہیں۔

خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب کی طرف پاک افغان سرحد پر واقع جنت نظیر وادی تیراہ کو جنوری 2013ء میں مختلف کالعدم تنظیموں لشکرِ اسلام، انصارِ السلام اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان خورنریز جھڑپوں نے بارود کا ڈھیر بنا دیا۔ جھڑپوں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ عسکریت پسندوں نے اپنی مخالف تنظیموں کے رضا کاروں کے سینکڑوں گھر بھی جلا دیے اور صورتحال اس وقت شدت اختیار کر گئی جب تحریک طالبان پاکستان نے تیراہ کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

بالآخر پاک فوج نے اپریل 2013ء میں تیراہ کے علاقے میں کالعدم تنظیموں کے خلاف زمینی آپریشن شروع کیا۔ حکومتی اداروں کے مطابق تیراہ میں عسکریت پسند تنظیموں کے درمیان شدید جھڑپوں اور فوجی آپریشن کے دوران بمباری سے جان بچانے کے لیے مقامی لوگوں نے بڑے پیمانے پر محفوظ مقامات کی جانب نقل مقانی کی اور وہ پشاور اور جلوزئی متاثرین کیمپ پہنچے۔

Image caption قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ، ادویات اور خوراک کے بندوبست کے ساتھ ساتھ دیگر نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔

تیراہ میں کشیدہ صورت حال کے دوران اپنے والدین سے محروم اور نقل مقانی کرنے والے گبین اور قدم خان آفریدی کے مطابق علاقے میں جنگ بندی کے باوجود وہ گھروں کو واپس نہیں لوٹے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی حکومت نے کئی آپریشن کر کے علاقے کو ’کلیئر‘ کرنے کا دعوے کیے تھے لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد طالبان عسکریت پسند دوبارہ علاقوں پر قابض ہوکر اپنے مراکز قائم کر لیتے ہیں۔

نقل مقانی کرنے والے ایک اور شخص عمیر خان کے مطابق تیراہ سے نقل مقانی کرنے کے بعد پشاور میں تین کمروں کے گھر میں تین متاثرہ خاندانوں نے پناہ لی ہے جن کی تعداد 38 کے قریب بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن کو کسی نہ کسی طرح گزارہ کیا جاتاہے مگر رات کو سونے کیلئے جگہ ناکافی پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے سخت فریاد کرتے ہوئے کہا کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

گورنر خیبر پختونخواہ انجیئنر شوکت اللہ خان نے گذشتہ روز خیبر ایجنسی کے دورے کے موقع پر بی بی سی کو بتایا کہ پاک فوج کے کامیاب آپریشن کے بعد تیراہ سے نقل مقانی کرنے والے لاکھوں افراد کی گھروں کو دوبارہ واپسی کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں اور چند دنوں میں یہ مرحلہ شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ میں مقامی لوگوں کے تمام تر نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائیگا۔

گورنر شکوکت اللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں ملک دشمن عناصر کو دوبارہ پناہ نہ دیں اور پاک فوج کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

Image caption گورنر شکوکت اللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں ملک دشمن عناصر کو دوبارہ پناہ نہ دیں

آئی ایس پی آر پشاور کے ایک سینئر افسر کے مطابق تیراہ سے پاک فوج کے جوانوں نے عسکریت پسندوں کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے قائم کیے گئے ٹھکانوں، مراکز، نجی جیلوں اور عدالتوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پاک فوج علاقے میں ہی موجود رہی گی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق تیراہ میں پاک فوج کی موجودگی اور عسکریت پسندوں کو دوبارہ قابض نہ ہونے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ 2008 سے اب تک متعدد ناموں دراغلم، بیا دراغلم، خوخ بہ دے شم، اور صراط مستقیم جیسے ناموں سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کیے گئے لیکن سب کے سب بے نتیجہ رہے۔

قبائلی عمائیدین نے حکومت کی جانب سے تیراہ متاثرین کی واپسی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن انہوں نے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ لاکھوں افراد کی دوبارہ واپسی کا مرحلہ رمضان سے پہلے شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ، ادویات اور خوراک کے بندوبست کے ساتھ ساتھ دیگر نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔

اسی بارے میں