کوئٹہ: ایک ہفتے میں دوسرا سرکاری افسر اغواء

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ایک اور سرکاری افسر کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

افسر جنت علی ہزارہ سول سیکریٹریٹ سے چھٹی کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔

سول لائنز پولیس نے جنت علی ہزارہ کے رشتہ داروں کی درخواست پر ان کے اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

جنت علی محکمہ صحت میں سیکشن افسر تھے اور ان کا تعلق شیعہ ہزارہ قبیلے سے ہے۔

سال 2002کے بعد کوئٹہ شہر میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شیعہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔

سکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم علاقے سے جنت علی کے اغوا پر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل احمد کہزاد کا کہنا ہے کہ’جنت علی ہزارہ کا سول سیکریٹریٹ سے اغوا ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔سول سیکریٹریٹ اور گورنر ہاؤس جیسے حساس علاقے میں اگر کوئی محفوظ نہیں تو پھر عام آدمی کا کیا ہوگا‘۔

روان ماہ کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ شہر سے اغوا ہونے والے یہ دوسرے سرکاری افسر ہیں۔

جنت علی کے اغواء سے قبل یکم جولائی کو منظور شاہ بخاری کو سریاب کے علاقے سے اغواء کیا گیا تھا ۔منظور شاہ بخاری محکمہ داخلہ میں سیکشن افسر تھے۔

گزشتہ ماہ لورالائی کے علاقے سے تین ڈاکٹروں سمیت پانچ سرکاری اہلکاروں کو اغواء کیا گیا تھا جنہیں تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔

دوسری جانب کوئٹہ سے جنوب میں تقریباً 40کلومیٹر دور شہر مستونگ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے آئل ٹینکروں کے قافلے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک آئل ٹینکر مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ ایک کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ابتدا میں پولیس کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ یہ آئل ٹینکر سائندک کاپر اینڈ گولڈ منصوبے کے لیے تیل لے جا رہے تھے۔

لیکن بعد میں پولیس نے وضاحت کی کہ یہ آئل ٹینکر ایک پرائیویٹ کمپنی کے تھے جو کہ کہیں اور تیل لے جا رہے تھے۔سائندک پراجیکٹ ضلع چاغی میں ہے جسے ایک چینی کمپنی چلا رہی ہے

اسی بارے میں