’ممکن ہے شکیل آفریدی لاعلم ہو‘

ایبٹ آباد کمیشن نے پاکستان میں اُسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکہ کی مدد کرنے کے الزام کا سامنے کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قبائلی انتظامیہ کے ذریعے ایک اور مقدمے میں مجرم قرار دینے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ انہیں امریکہ کے سپیشل آپریشنز مشن اور اس کے مطلوبہ ہدف (بن لادن) کا علم ہی نہ ہو۔

الجزیرہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ’ہوسکتا ہے کہ انہیں (شکیل آفریدی) شک ہوا ہو مگر سچ یہ ہے کہ انہیں امریکی کارروائی کے تین ہفتوں بعد گرفتار کیا گیا۔ اس دوران سی آئی اے انہیں ملک سے باہر لے جاسکتی تھی۔‘

کمیشن کہتا ہے کہ حسب قانون ایک غیرجانبدارانہ سماعت کے ذریعے ہی یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کس حد تک اور کس طرح سے ملوث تھے۔

شکیل آفریدی کی سزا

جاسوس یا پیادہ ؟

شکیل آفریدی کی سزا پر چند سوالات

خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نے پچھلے سال مئی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے تحت 33 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

ہمارے نامہ نگار احمد رضا کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں اس عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان پر شفاف انداز میں مقدمہ چلنا چاہیے مگر حکومت کے حمایت یافتہ قبائلی جرگے کے ذریعے خودساختہ الزامات میں انہیں مجرم قرار دے کر مناسب قانونی طریقہ نہیں ہے۔

کمیشن کہتا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کے خلاف اس کارروائی سے پاکستان اور اس کے عدالتی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

’یہ انصاف کے ساتھ مذاق تھا جس سے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ حکومت کے پاس ڈاکٹر آفریدی کے خلاف کوئی حقیقی مقدمہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس کمیشن کو حتمی طور پر یقین ہے کہ آفریدی پر درحقیقت ایک مقدمہ بنتا ہے جس میں انہیں جواب دینا ہے۔‘

کمیشن کی رپورٹ میں ڈاکٹر شکیل سے ہونے والی تفصیلی بات چیت رقم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے کمیشن کو بتایا کہ دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی چھاپے کے وقت وہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ضلعی افسر صحت کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے بتایا کہ مارچ 2008 میں پشاور سے واپس خیبر ایجنسی جاتے ہوئے منگل باغ گروپ نے اغواء کر لیا اور پندرہ لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور تاوان نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

ان کے بقول انہیں فرنٹیئر کانسٹبلری کے قلعے اور پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے قریب ہی خیبر ایجنسی کی مرکزی شاہراہ پر ہی ایک جگہ پر رکھا گیا تھا اور سب کو اس جگہ کا علم تھا مگر سرکاری اہلکار کے ہونے کے باوجود کسی نے ان کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے کمیشن کو مزید بتایا کہ ان کے خاندان کے کئی افراد پاکستان کی مسلح افواج خصوصاً فضائیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان سب کو تاوان کی رقم جمع کرنے کے لیے بڑی بھاگ دوڑ کرنا پڑی اور انہوں نے دس لاکھ روپے جمع کر کے اغواء کاروں کو دیے جس کے بعد انہیں رہائی ملی۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے رہائی کے بعد کور کمانڈر سے ملنے کے لیے انہیں تحریری درخواست بھیجی جس پر کور کمانڈر نے انہیں جوابی خط لکھ کر آگاہ کیا کہ فاٹا کے سیکریٹری کو ان کی مدد کے لیے کہا گیا ہے۔

بعد میں ڈاکٹر آفریدی کے بقول ’خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ نے انہیں بتایا کہ جن افراد نے انہیں ان کے پاس بھیجا ہے، انہی کا ان کے اغواء میں ہاتھ تھا اس لیے وہ ان کی کوئی بھی مدد کرنے سے قاصر ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی کا کہنا تھا کہ اس تجربے کے بعد وہ مایوس ہوگئے اور قبائلی علاقوں کے غیرمحفوظ حالات کی وجہ سے بھی انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 2009 میں گھر والوں سمیت امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا چلے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے بتایا کہ جن حالات کی وجہ سے انہیں پاکستان چھوڑنا پڑا وہ ان کی بنیاد پر امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دیتے مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور نتیجتاً وہ امریکہ میں پناہ حاصل نہیں کر سکے اور اسی سال وطن واپس آ گئے اور پھر سے ضلعی رابطہ افسر خیبر ایجنسی کا عہدہ سنبھال لیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی کے بقول اسی دور میں امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ نے بین الاقوامی تنظیم سیو دا چلڈرن کے ساتھ مل کر قبائلی علاقوں سمیت پورے پاکستان میں بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی دوائیں دینے کا پروگرام شروع کیا اور قبائلی علاقوں میں ضلعی افسران صحت ہی اس پروگرام کے نگراں تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی نے مزید بتایا کہ دسمبر 2009 میں صحت کے اسی پروگرام کے تحت ایک ٹریننگ پروگرام میں سیو دا چلڈرن کے ایک آسٹریلوی نژاد اہلکار سے ملاقات ہوئی جس سے ان کی راہ و رسم ہوگئی۔

آسٹریلوی نژاد ان صاحب نے ڈاکٹر آفریدی سے منگل باغ کی شوری کے ارکان اور انہیں فنڈز دینے والے افراد کے بارے میں معلومات مانگی جو رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے انہیں فراہم بھی کی۔ اسی آسٹریلوی شخص نے ایک امریکی خاتون سے ملوایا جن سے ان کی بعد میں ایک خفیہ جگہ پر باقاعدگی سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے مارچ اور اپریل سنہ 2011 میں سیو دا چلڈرن کے پروگرام کے تحت ایبٹ آباد کے نواحی علاقے نواں شہر میں بچوں اور عورتوں کو بیماریوں سے بچاؤ کی دوا دینے کی مہم چلائی جس میں مقامی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے حصہ لیا اور اس کے لیے فنڈز ان کے نجی اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے تھے جس کی اطلاع محکمۂ صحت کے افسرانِ بالا کو نہیں تھی کیونکہ ان کے بقول یہ کوئی خفیہ پروگرام نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے بتایا کہ اس مہم کے دوران کوئی بھی لیڈی ہیلتھ ورکر اس کمپاؤنڈ میں داخل نہیں ہو سکی تھی جو علاقے میں وزیرستان کوٹھی کے نام سے مشہور تھی۔

انہیں بتایا گیا تھا کہ اس عمارت میں سوائے آفریدیوں کے کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس میں رہنے والے افراد کی قبائلی دشمنی چلی آرہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچوں اور عورتوں کی ویکسینیشن کی یہ مہم 23 اپریل کو ختم ہوئی اور ٹھیک نو دن بعد امریکی فوج نے اس کمپاؤنڈ پر کارروائی کردی۔ تین ہفتوں بعد ڈاکٹر آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا۔

انہیں پہلے پشاور اور پھر ایبٹ آباد میں زیرِ حراست رکھا گیا اور اس کے بعد اسلام آباد میں سات دنوں تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی کے بقول وہ سات دن ان کی زندگی کے بدترین دن تھے اور اس کے بعد انہیں دوبارہ پشاور منتقل کردیا گیا جہاں وہ پینتیس دنوں تک آئی ایس آئی کی حراست میں زیرتفتیش رہے۔ اس دوران نہ تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی نے کمیشن کو بتایا کہ اگر وہ ملوث ہوتے تو امریکی کارروائی سے پہلے یا فوری بعد غائب ہوچکے ہوتے، ان کے بقول ان کےدل میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ وہ کسی خفیہ امریکی منصوبے میں ملوث ہورہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کے بقول ویکسینیشن پروگرام کے دوسرے رابطہ کاروں کی طرح انہیں بھی سٹیلائٹ ریڈیو دیا گیا تھا اور جب وہ وزیرستان کوٹھی کے سامنے کھڑے تھے تو ان کا سٹیلائٹ ریڈیو آن تھا۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن کا خیال ہے کہ ظاہر ہے انہیں ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہوگا۔ مگر خود ڈاکٹر آفریدی کے بقول وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ کیا وہ ریڈیو اس جگہ کے متعلق معلومات سٹیلائٹ تک پہنچا رہا تھا یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آفریدی یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ امریکہ ان کی رہائی چاہتا ہے اور وہاں انہیں ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمیشن کو پاکستان کے سیکریٹری دفاع نے بتایا ڈاکٹر آفریدی بن لادن کے کمپاؤنڈ میں تو داخل نہیں ہوسکے تھے البتہ انہوں نے بن لادن کے میزبان ابراہیم سے ٹیلی فون پر بات ضرور کی تھی۔

سیکریٹری دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر آفریدی 2008 سے یو ایس ایڈ کی آڑ میں سی آئی اے کے لیے کام کر رہے تھے اور یہ کہ امریکی خفیہ ادارے نے انہیں بن لادن کو مارنے کے منصوبے کے لیے استعمال کیا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے سرکاری طور پر اب تک اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں