بائیں کے بجائے دائیں ٹانگ کا آپریشن

Image caption نجمہ کے شوہر اور والدین کسان ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال میں ایک مریضہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بائیں کی بجائے دائیں ٹانگ کا آپریشن کیا گیا ہے جس پر ہسپتال انتظامیہ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ستائیس سالہ نجمہ چانڈیو کو دس روز پہلے سول ہسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ میں داخل کیا گیا تھا، نجمہ کے شوہر اور والدین کسان ہیں۔

نجمہ کے بستر کے پاس موجود ان کی والدہ زہرہ چانڈیو نے بتایا کہ ان کی بیٹی کھیت میں ان کے لیے کھانا لیکر آ رہی تھی کہ اچانک لڑکھڑا کرگر گئیں اور ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

نجمہ کی والدہ کے مطابق وہ انھیں ایک مقامی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئیں جس نے بتایا کہ نجمہ کا آپریشن ہوگا جس کے بعد ان کی ہڈی جڑ جائے گی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی بیٹی کو کراچی لے جائیں جہاں ان کا مفت آپریشن ممکن ہوگا۔

زہرہ چانڈیو نے بتایا کہ انھوں نے اس سے پہلے کبھی کراچی نہیں دیکھا تھا۔ لوگوں سے معلوم کرتے ہوئے یہاں پہنچیں اور بیٹی کو ہپستال داخل کروایا اور خیرات لیکر آپریشن کے لیے خون کا انتظام کیا۔

ستائیس سالہ نجمہ چانڈیو نے بتایا کہ انھیں آپریشن تھیٹر میں لے جا کر پہلے ٹیکا اور اس کے بعد آکسیجن ماسک لگا دیا گیا۔

نجمہ نے بتایا کہ انھوں نے اپنا ہاتھ متاثرہ ٹانگ کی جانب کیا لیکن ڈاکٹروں نے ان کا ہاتھ وہاں سے ہٹا دیا جس کے بعد انھیں ہوش نہیں رہا اور جب ہوش آیا تو ان کی بائیں کے بجائے دائیں ٹانگ کا آپریشن کیا جا چکا تھا۔

نجمہ چانڈیو کی دو بیٹیاں ہیں، وہ فکر مند ہیں اب ان کا خیال کون رکھےگا؟ ان کے بقول انھیں دونوں ٹانگوں سے معذور کر دیا گیا ہے، ان کا شوہر مزدوری کرے گا یا بچوں کا خیال رکھے گا۔

کراچی کے سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر سعید قریشی کے مطابق طبی حادثات ہوتے رہتے ہیں، یہ حادثہ ہے یا نہیں اس کی تحقیقات کی جائے گی اور اڑتالیس گھنٹوں میں اس کی رپورٹ سامنے آ جائے گی۔

انہوں نے نجمہ چانڈیو کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مریضہ کے ایکسرے دیکھے ہیں جس کے مطابق ان کی دونوں ٹانگوں میں فریکچر ہے، ایک ٹانگ میں پرانا فریکچر ہے۔

نجمہ کی والدہ زہرہ کا کہنا ہے کہ ہپستال انتظامیہ نے ان کی بیٹی کے ایکسرے اور فائل اپنے قبضے میں لے لی ہیں، جبکہ دوسرے تمام مریضوں کے پاس ان کی فائل موجود ہے۔

ڈاکٹر سعید قریشی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایکسرے اور رپورٹس تبدیل نہیں کی جا سکتیں کیونکہ ان کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا موجود ہے۔

سول ہپستال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر سعید کو یہ یاد ہے کہ امریکہ میں طبی حادثات کی تعداد گیارہ فیصد ہے لیکن انھیں اپنے ہپستال میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی تعداد کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

ان کے مطابق ایسی شکایات سامنے نہیں آتیں اور نہ ہی ان کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔