راجن پور: نو مغوی پولیس اہلکاروں میں سے دو ہلاک

Image caption پولیس کو خطرہ ہے کہ دریا میں پولیس بوٹوں کو دیکھ کر ملزم دور سے اسے راکٹ لانچر کا نشانہ ہی نہ بنا ڈالیں

پنجاب کے دورافتادہ ضلع راجن پور میں دریائے سندھ کے قریب کچے کے علاقے میں مسلح پولیس اہلکاروں کے سامنے مورچہ زن اغوا کاروں نے پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں پھینک دی ہیں۔

ضلع رحیم یار خان پولیس کے ایک اہلکار نے دونوں ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔

مسلح اغوا کاروں کے قبضے میں اب بھی سات پولیس اہلکار ہیں جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور اغوا کاروں نے اپنے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں انہیں ایک ایک کر کے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

پنجاب کے تین اضلاع کے سینکڑوں پولیس اہلکار اپنے ساتھی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے چار روز سے کچے کے میلوں طویل علاقےکو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق اتوار کو غلام رسول عرف چھوٹو گینگ کے مسلح افراد نے دریائے سندھ کے اندر جزیرہ نما ٹاپویا خشک مقام پر حملہ کر کے دو پولیس چوکیوں میں تعینات نو پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔

پولیس کے مطابق ملزموں نے مطالبہ کیا کہ ان کے گرفتار تین ساتھیوں کو رہا کیا جائے اور غلام رسول عرف چھوٹو کی گاڑی پولیس واپس کرے اور کچے کے علاقے میں قائم تمام بائیس پولیس چوکیاں ختم کر دی جائیں۔

پولیس نے ملزموں کے یہ تمام مطالبات ماننے سے انکار کردیا ہے اور تین اضلاع کے ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ہیلی کاپٹر کو بھی ملزموں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

یہ علاقہ میلوں طویل دریائی، خشک، جنگلی اور دلدلی سطح کا بنا ہوا ہے۔

کچے کا یہ علاقہ کئی میل لمبا ہے اور بلوچستان، پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ میں سکھر تک چلا جاتا ہے۔

رحیم یار خان کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن رہا ہے۔ سنہ دوہزار دس میں ڈاکؤوں اور اغوا کاروں نے کھلم کھلا اغوا برائے تاوان اور قتل و غارت گری شروع کردی تھی جس کے بعد پنجاب اور سندھ پولیس نے مل کرڈھائی مہینے تک طویل آپریشن کیے اور ایک سو سے زائد افراد مبینہ مقابلوں میں مارے گئے۔ پولیس کے مطابق فرار ہونے والوں میں غلام رسول عرف چھوٹو بھی شامل تھا۔

پولیس نے اُس دور میں علاقے کو واگذار کروانا ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا اور پولیس افسران نے ایک تقریب میں کچے کے علاقے میں پاکستانی پرچم لہرایا تھا اور کچے کے مختلف علاقوں میں بائیس پولیس چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق اس دور کے پولیس آپریشن کے فرنٹ مین ضلعی پولیس افسر سہیل ظفر چٹھہ تھے اور ان کے دور میں ایک سال تک کچے کے علاقے کے ملزم مبینہ مقابلوں میں مارے جاتے رہے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق چھوٹو نے یہ شرط بھی سامنے رکھی ہے کہ پولیس جعلی مقابلوں میں اس کے ساتھیوں کو ہلاک کرنا بند کرے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق چھوٹو گینگ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوگیا ہے جبکہ مغوی پولیس اہلکار بھی اس کی قید میں ہیں۔ مغوی پولیس اہلکاروں کے لواحقین رحیم یار خان پہنچ گئے ہیں اور پولیس افسران ان سے رابطے میں ہیں۔

پولیس ماہرین کے مطابق دریائی علاقوں میں اکثر جرائم پیشہ افراد اپنا مسکن بنا لیتے ہیں کیونکہ واردات کے بعد فرار ہونے کے لیے دریا کو پار کرلیا جاتا ہے۔

پولیس کےمطابق چھوٹو گینگ کے ارکان جدید ترین اسلحہ سے لیس ہیں جن میں اینٹی ائر کرافٹ گنز سے لیکر راکٹ لانچر اور مشین گنیں تک شامل ہیں۔

چھوٹو گینگ کے افراد مغویوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر ڈالتے رہے ہیں اور اپنے اسلحہ اور طاقت کی نمائش کے لیے انہوں نے فیس بک پر ایک صفحہ بھی بنا رکھا ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ اس وقت مختلف چھوٹے بڑے گینگ چھوٹو کے ساتھ مل گئے ہیں تاکہ پولیس کو زچ کیا جاسکے۔ ایک اطلاع کے مطابق ملزموں نے پولیس کے ہیلی کاپٹر پر بھی اینٹی ائر کرافٹ گن سے فائر کیا تھا۔

رحیم یار خان پولیس کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بتایا کہ پولیس اس لیے جزیرہ نما ٹاپو پر نہیں جار ہی کیونکہ خطرہ ہے کہ دریا میں پولیس بوٹوں کو دیکھ کر ملزم دور سے اسے راکٹ لانچر کا نشانہ ہی نہ بنا ڈالیں جبکہ ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کی صورت میں مغوی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں