انسداد دہشتگردی کی پالیسی بنانے میں ناکامی کیوں؟

چوہدری نعیم کے بھائی انسپکٹر عبدالروف کو گزرے اب تقریباً چار برس ہونے کو ہیں لیکن دہشگردی کا شکار ہونے والے ہزاروں خاندانوں کی طرح ان کا زخم ابھی بھی تازہ ہے۔

چوہدری نعیم کہتے ہیں ’ہم بھائی کم تھے اور دوست زیادہ۔ نوکری کے بعد عبدالروف نے میرے گھر آ جانا اور پھر ہم نے اکٹھے کھانا کھانا حالات حاضرہ پر تبصرے کرنے اور خوب گپ شپ ہونی۔ اب تو صرف یادیں ہی ہیں۔‘

عبدالروف لاہور میں ریسیکو ون فائیو اور آئی ایس آئی کے دفتر پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے۔ تین خودکش حملہ آوروں نے جب ان سکیورٹی ادروں سے بارود کی بھری گاڑی ٹکرائی تو اتنی تباہی ہوئی کہ چھبیس افراد جان سے گئے اور دو سو زخمی ہوئے۔

گذشتہ چند برسوں سے ایسے حملے معمول بن چکے ہیں۔ پاکستان انسیٹیوٹ فار پیس سٹیڈیز کے مطابق صرف حالیہ برس کے دوران اب تک ملک میں دہشتگردی کے ساڑھے تیرہ سو حملے ہو چکے ہیں۔

دہشت گردی کے یہ پے در پے واقعات ہر لمحے شہریوں کو حالت جنگ کا احساس دلاتے ہیں۔ دو ہزار دو سے اب تک سینکڑوں حملے ہزاروں جانوں کا ضیاع اور اربوں کا مالی نقصان لیکن پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف کوئی طویل مدتی مشترکہ لائحہ عمل نہیں بنایا جا سکا۔

سلامتی کے امور کے ماہر صوبہ پنجاب کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس شوکت جاوید کہتے ہیں ’پاکستان میں دو تین طرح کے ادارے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں جن میں پولیس، وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور سراغ رساں ایجنسیاں شامل ہیں‘۔

’میرے نزدیک سب سے اہم ضرورت تو یہی ہے کہ انسداد دہشتگردی کی ایک جامع پالیسی بنائی جائی جس کے ذریعے ان اداروں کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ایک تفصیلی خاکہ دیا جا سکے اور پھر اسی خاکے کے ذریعے ان تمام اداروں کی ذمے داریوں کا تعین اور اسی کی بنیاد پر سب کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے‘۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پالیسی کیوں نہیں بن سکی جبکہ پاکستان کے قانون ساز ادارے اس مسئلے پر کئی قرادادیں منظور کر چکے ہیں۔ اور تو اور گذشتہ برس انسداد دہشگردی کے ایک ترمیمی بل کی منظوری بھی دی س جس کے تحت پہلے سے موجود قانون کو مزید سخت بنایا گیا۔

سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین کہتے ہیں ’اگر ایک ریاست اپنے ملک کے باشندوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو اس سے برا کیا ہوگا۔ دہشتگرد جب چاہیں اور جہاں چاہیں جس کو چاہیں بلا امتیاز نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ اب ایک سیاسی جماعت ایک ادارے یا ایک حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے۔‘

اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے چند برس پہلے ایک خودمختار ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی یا قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کی تشکیل کی گئی لیکن اس کے ساتھ کیا ہوا؟

مشاہد حسین سید کہتے ہیں ’پچھلی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہی ادارہ ہے۔قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی جس کا اعلان انہوں نے دو ہزار نو میں کیا۔ اس کے لیے دفتر بھی بن گیا۔ یورپی یونین نے پیسہ بھی دے دیا لیکن لڑائی شروع ہوگئی کہ اس ادارے کو کون کنٹرول کرے گا۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ، وزارت داخلہ یا پھر اس کو آزاد کیا جائے۔

’ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہمیں کونسا عہدہ ملےگا، مراعات کیا ہوں گی۔ انھیں باتوں میں پانچ سال ضائع ہوگئے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کا فعال نہ ہونا پاکستان میں انسداد دہشتگردی کی پالیسی کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا۔

تاہم واضح پالیسی گائیڈ لائنز موجود نہ ہونے کے باعث سکیورٹی اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان بھی دہشگردی کے خلاف پاکستان کے سلامتی کے اداروں کی کارگردگی متاثر کر رہا ہے۔

سلامتی کے امور کے ماہر سابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شوکت جاوید کہتے ہیں ’اس وقت آپ اگر آئی ایس آئی کو آئی بی کو ایف آئی اے کو پولیس کو وزارت داخلہ کو کہیں کہ وہ دہشتگردی کے بارے میں قومی تصویر آپ کو بنا کے دکھائیں تو وہ آپ کو اپنی اپنی تصویر بنا کے دکھائیں گے۔ لیکن قومی تصویر کسی کے پاس نہیں ہوگی۔ ہمیں چاہیے ایک ایسی تصویر جس پر سب متقفق ہوں’۔

تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ دہشگردی کی خلاف باقاعدہ پالیسی کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کے ادارے دوست اور دشمن کا تعین ہی نہیں کر سکے۔

معروف دانشور پروفیسر حسن عسکری رضوی کے مطابق ’ بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاشرے کے لیول پر حکومتی سطح پر اور فوج میں بھی سوچ ایک نہیں ہے۔ کچھ لوگ ابھی بھی یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں ان سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ اگر وہ دوست ہیں تو پھر انسداد دہشتگردی کی پالیسی کی کیا ضرورت ہے۔

’جب تک یہ تمام ادارے ایک سوچ نہیں اپنا لیتے اور اس بات پر متفق نہیں ہوتے کہ تشدد کوئی بھی کرے کسی نام سے کرے کسی حوالے سے کرے اور اسے اسلام کا نام دے وہ قابل قبول نہیں۔‘

نئی حکومت بننے کے بعد حملوں کی یلغار نے کچھ لوگوں کی اس خوش فہمی کو بھی دور کردیا ہے کہ شاید دہشت پھیلانے والے عناصر چند مخصوص پارٹیوں سے مخاصمت رکھتے ہیں۔

موجودہ حکومت سے عوام کی توقعات کی فہرست تو انتہائی طویل ہے لیکن اب جان کا تحفظ یقیناً اس فہرست میں اول نمبر پر ہے۔ اور لگتا ایسا ہے کہ اب صرف باتوں سے بات نہیں بنے گی۔

اسی بارے میں