’باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے‘

پاکستان میں ترقیات اور منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کی خواہاں ہے اور یہ کہ پاکستان اور بھارت دونوں باہمی تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کے وقت بھارت نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا جو دونوں ممالک کے لیے خوش آئند ثابت ہوا۔

اسلام آباد میں دفترِ خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان خطے کی اقتصادی ترقی کے لیے چین اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ملکوں سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ہوئی ہے توکوئی نہ کوئی مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

بقول احسن اقبال کہ جب ممبئی پر حملہ ہوا تو ان قوتوں کو جو پاک بھارت تعلقات خراب کرنا چاہتے تھے، عارضی کامیابی تو ملی لیکن بھارتی حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو طرفہ تعلقات خراب کرنے والوں کو بےنقاب کیا۔ ’اب ہم ایک بار پھر تعلقات بہتر بنا نے کی کوشش کریں گے تاکہ علاقے میں بدامنی پھیلانے والوں کو مل کر شکست دے سکیں۔‘

پاکستان میں توانائی بحران کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورۂ چین کے موقع پر توانائی کے شعبے میں کئی منصوبے شروع کرنے پر دونوں ممالک میں اتفاق ہواہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ چین کے تعاون سے شمسی توانائی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے شروع ہوں گے کیونکہ چینی کمپنیوں کو ان دونوں شعبوں میں مہارت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ چین بھاشا ڈیم بنانے کی تعمیر میں پاکستان سے تعاون کے لیے تیار ہے۔

بلوچستان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیرحسن اقبال نے کہا کہ بلوچستان کامسئلہ اہم ہے اور وفاقی حکومت اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو مذاکرات کی میز پر لا رہی ہے تاکہ اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں آٹھ ہزار سے زیادہ ایسے قیدی ہیں جنہیں مختلف جرائم میں عدالتوں سے سزائے موت ہوچکی ہے اور آئین کے تحت اس پر عملدرآمد کریں گے۔

تاہم انہوں نے اس سزا کے بارے میں ا نسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سمیت کئی ممالک میں سزائے موت کاقانون موجود ہے۔

اس موقع پر ہفتہ وار بریفنگ دیتے تھے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان امن مذاکرات کی حمایت کی جبکہ دوحہ میں طالبان کی جانب سے دفتربند کرنا مذاکرات کی راہ میں ایک اور چیلنج ثابت ہوگا۔

افغان حکام کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کے بارے ایک سوال کے جواب میں دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتاہے۔

اسی بارے میں