کوہاٹ:مسجد کے قریب دھماکہ، دو ہلاک

Image caption صوبۂ خیبر پختونخوا ایک عرصے سے دہشتگردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنا ہوا ہے

پاکستان کے صوبۂ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ دھماکہ جمعرات کو کوہاٹ سے پچیس کلومیٹر دور مغرب میں ہنگو روڈ پر کچا پخہ کے مقام پر اس وقت ہوا جب قریب واقع اہل تشیع کی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

پولیس انسپکٹر شاہ دوران کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل میں دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے مسجد کے ساتھ کھڑا کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس دھماکے میں پانچ کلو تک بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں اور لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی کا عمل بھی شروع کیا ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو اہم قبائلی ملک بھی اسی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کرنے آئے تھے لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

اسی مقام پر پہلے بھی متعدد بار اس طرح کی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ حالیہ انتخابات سے پہلے اپریل کے مہینے میں انتخابی امیدواروں کی الیکش آفس کے قریب دھماکہ کیا گیا تھا جس میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کوہاٹ اور اس کے قریب واقع ضلع ہنگو میں کچھ عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہنگو میں ایک قبائلی رہنما کی گاڑی کے قریب دھماکے سے چھ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے ہنگو میں ہی نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی فرید خان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا جس کے بعد علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جن میں دس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔