لیاری کے کچھی خاندانوں کی نقل مکانی

Image caption کراچی اور ٹھٹہ کے درمیان دہابیجی کے علاقے میں بھی ایسے کئی خاندان موجود ہیں جو اپنے رشتے داروں کے پاس پناہ کے لیے پہنچے ہیں

کراچی کے علاقے لیاری میں کئی روز سے جاری گینگ وار کے بعد کچھی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں خاندان اندرون سندھ کے اضلاع ٹھٹہ، بدین اور ٹنڈو محمد خان نقل مکانی کر گئے ہیں، جہاں انہوں نے عارضی کیمپوں اور رشتے داروں کے پاس رہائش اختیار کی ہے۔

حالات کی وجہ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی اکثریت آگرہ تاج، کلری، مارکیٹ روڈ، کچھی سوسائٹی، مندھرا محلہ، رحیم آْباد، حاجی حسین بچل روڈ، ہنگورا محلہ کے علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ علاقے گزشتہ ہفتے میدان جنگ بنے ہوئے تھے۔ دو گروہوں کے درمیان مسلح تصادم میں فائرنگ اور روسی ساختہ ایوان بم حملوں سے دس سے زائد افراد ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

کراچی اور ٹھٹہ کے درمیان دہابیجی کے علاقے میں بھی ایسے کئی خاندان موجود ہیں جو اپنے رشتے داروں کے پاس پناہ کے لیے پہنچے ہیں اور انھوں نے روایت برقرار رکھتے ہوئے مشکل کی اس گھڑی میں انھیں اپنے گھر اور دل میں جگہ دی ہے۔

محمد اکرم اپنے چار بچوں اور بیوی کے ساتھ ایک ہفتہ قبل یہاں آئے تھے، ان کے مطابق مسلح لوگ علاقے میں آ کر فائرنگ کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنی بچیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ صورت حال اس قدر سنگین تھی کہ وہ ان کے کپڑے بھی اپنے ساتھ لیکر نہیں آسکے۔ ’راستے میں کبھی بچوں کو بھگایا تو کبھی خواتین کو آگے کیا، اس طرح بچتے بچاتے یہاں پہنچے ہیں‘۔

محمد اکرم مستری ہیں، ان کے والد اور دادا بھی لیاری کے رہائشی تھے، ان کے مطابق انھوں نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا لیکن اس بار انھیں تیسری قوت کہا جا رہا ہے۔

’دفاع کا حق تو سب کو حاصل ہے ان کے لوگوں کے پاس صرف چھوٹے ٹی ٹی پستول ہیں اور گینگ وار والوں کے پاس کلاشنکوف اور بم ہیں ان سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے، یہ اسلحے بھی برادری نے چندہ اکھٹا کر کے خرید کیا ہے ‘۔

پاکستان کے قیام کے بعد کچھی کمیونٹی کے لوگ موجودہ بھارتی علاقے کچھ بھج سے نقل مکانی کرکے پاکستان آئے تھے، کراچی میں ان کا پڑاو لیاری تھا، جہاں وہ کئی دہائیوں سے مقامی بلوچ آْبادی کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔

کچھی کمیونٹی آج بھی ساتھ رہنے کو تیار ہے ، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر ان میں تفریق پیدا کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

فاطمہ کے شوہر انھیں چھوڑ کر دوبارہ ملازمت کے لیے کراچی گئے ہیں وہ کرین آپریٹر ہیں، دونوں ایک ڈیڑھ فلیٹ یعنی ایک کمرے اور لاؤنج پر مشتمل گھر میں رہتے تھے۔

’یہ دہشت گرد بلوچ نہیں، یہ پتہ نہیں کہاں سے آ گئے ہیں ہمارے گھروں پر قبضہ کرلیا ہے، ہمیں کہتے ہیں کہ یہاں سے جاؤ یہ علاقہ ہمارا ہے۔ کیا ہمارا کچھ نہیں؟ اس جملے کے بعد ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

مسمات شہناز نے بتایا کہ لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیےگئے کہ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ مار دیئے جاؤ گئے، ہمارا پاس تو اتنا پیسہ نہیں کہ کہیں اور جا کر گھر لیں ہمیں تو روز کماتے اور کھاتے ہیں‘۔

غریب رشتے داروں کے چھوٹے گھروں میں ان متاثرینِ لیاری نے پناہ لے رکھی ہے، لیکن اپنا گھر کا مشکل سے گذر بسر کرنے والے یہ لوگ ان کا کب تک خیال رکھ سکیں گے۔

بدین میں کئی متاثرین نے شاہ گولڑو کے مزار کے احاطے میں پناہ لے رکھی ہے، جہاں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔

لیاری میں گینگ وار تو گزشتہ کئی سالوں سے جاری تھی، لیکن انتخابات سے پہلے اور بعد میں اس میں شدت آ گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کچھی کمیونٹی سے بھی اپنا امیدوار نامزد کرتی رہی ہے لیکن اس بار انہیں نظر انداز کیا گیا اور انھوں نے اپنا سیاسی فیصلہ خود کیا، جو بات لیاری کا انتظام سنبھالنے والے گروہوں پسند نہیں آئی۔

صدر آصف علی زرداری نے اس صورت حال پر پیپلز پارٹی کی کراچی کی قیادت پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور معاملات کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن کرکے علاقے کو کلیئر قرار دیا ہے لیکن متاثرین خوف کی وجہ سے واپس جانے کے لیے تیار نہیں، ان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں چوکیاں تک قائم نہیں کرتے اور کسی واقعے کے وقت موجود نہیں ہوتے۔

اسی بارے میں