’ملالہ آگے تھیں، دنیا کے رہنما اُن کے پیچھے‘

Image caption ملالہ کے استقبال میں پوری جنرل اسمبلی نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں

یہ دن اقوام عالم کے لیے ملالہ کا دن تھا۔

جولائی میں بھی نیویارک کی صبح خنکی اور بادلوں سے بھری ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لہراتے جھنڈوں کے ساتھ دنیا بھر سے بچے بچیاں، نوجوان لڑکے لڑکیاں جوق در جوق، اپنے روایتی لباس میں اس تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے۔ افریقی اپنے رنگ برنگ ریشمی کرتہ شلوار نما لباس میں، تو عرب بچے اور نوجوان اپنے سروں پر رومال باندھے، کئی لڑکیاں کفایہ میں، تو کئی ساڑھیوں اور سکرٹس میں، سکھ بچے اور نوجوان اپنی پگڑیاں پہنے، تو پاکستانی اور بھارتی روایتی شلوار قیمض میں ملبوس تھے۔

آج میں نے یہ پہلی بار دنیا کی مصروف ترین اس صدر دفاتر کو اس حال میں دیکھا جہاں قطار میں کھڑے اپنی اندر جانےکی باری کا انتظار کرنے والے لوگ جلدی اور پریشانی میں نہیں تھے۔ نہ سکیورٹی والے فکرمند تھے نہ پولیس والے۔ نیویارک کے مقامی سکولوں سے رضاکار بچے اسّی ملکوں سے آئے ہوئے بچوں کے مددگار و گائیڈ کے طور پر حاضر تھے۔

آج جہاں جس جگہ دنیا کے فیصلے کیے جاتے ہیں وہاں کی جنرل اسبملی کا چاہے ایک دن کے ہی لیے کنٹرول انہی بچوں نے سنبھالا تھا۔

ملالہ نے صبح سب سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ صحافیوں اور میڈیا سے ملاقات کی۔ملالہ ہلکے رنگ کے شلوار قیمض میں ملبوس، پیروں میں عام سی چپل، سر پر دوپٹہ اور جسم پر ایک سفید رنگ کی شال لپٹے ہوئے تھیں۔ اس لڑکی کی چال میں ایک عجیب اعتماد تھا۔ وہ سکیورٹی کونسل کے سٹیج پر، جہاں دنیا کے سفارتکار اور اعلیٰ شخصیات دنیا بھر کے میڈیا کو بریفنگ دیتی ہیں، وہاں ایک لڑکی پاپا راستیوں سے ملتے جلتے یوں دنیا کے کمیروں کے سامنے ایک سادگی اور عظمت سے کھڑی تھی۔

’سوال نہیں کرنا ہے صرف فوٹو اوپ‘ ہے، اقوام متحدہ کی ایک اہلکار نے پہلے سے یو این ميڈیا سے کہہ ڈالا تھا۔

سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن جنرل اسمبلی میں ملالہ کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ ’آج یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔‘ بقول ان کے ملالہ جسے سیکریٹری جنرل بان گی مون اپنا دوست سمجھتے ہیں، ملالہ یوسف زئی اپنی سالگرہ کے دن اقوام متحدہ میں دنیا کے بچوں کے لیے حق تعلیم اور سلامتی کے بارے میں جنرل اسبملی سے خطاب کرنے آئی ہوئی تھیں۔ اسی دن کو اقوام متحدہ نے ملالہ ڈے قرار دیا تھا۔

ملالہ اسی پوڈیم پر سے خطاب کر رہی تھیں جہاں سے اس سے قبل دنیا کے منتخب جہموری رہنماؤں اور آمروں نے خطاب کیا ہے۔ فیڈل کاسترو، جنرل ضیاء الحق، یاسر عرفات، بینظیر بھٹو، ہیل سلاسی، دلائی لامہ ، براک اوباما، جارج بش، نیلسن مینڈیلا، اوگو چاویز۔ وہ رہنما بھی جو اپنی قوم کے ہیرو اور دوسروں کے لیے زیرو تھے۔

’مجھے فخر ہے کہ جو میں نے شال اوڑھی ہوئی ہے وہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی ہے۔‘ ملالہ نے اپنی تقریر کی شروعات ان الفاظ سے کی جس پر کئی مغربی اور امریکی صحافی بھی اسے داد دینے لگے۔

کس نے جانا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار باچا خان کا نام اقوام متحدہ کے ایوانوں میں گونجے گا۔ ملالہ نے جن شخصات کے دنیا میں امن، علم، عدم تشدد اور برداشت کی تعلیمات کے حوالے سے لیے ان میں پیغمبرِ اسلام محمد، یسوع مسیح، لارڈ بدھا، مارٹن لوتھر کنگ، نیسلن مینڈیلا، محمد علی جناح اور گاندھی شامل ہیں۔

Image caption ملالہ بینظیر بھٹو کی شال لیے ہوئی تھیں

نیلسن مینڈیلا کے بعد اگر اقوام متحدہ میں اتنی پذیرائي کسی مقرر کو ملی تو ملالہ یوسف زئی کو ملی۔ جس پر ایک امریکی صحافی کہہ رہی تھی ’آج یو این میں ملالہ مینڈیلا لو افئیر کا دن ہے۔‘

اقوام متحدہ کے اندر اور خاص طور پر جنرل اسبملی میں پہلی بار کوئی نعرے لگا رہا تھا۔ صومالیہ کے مندوب نوجوان اور موڈریٹر نے ہاتھ لہرا لہرا کر نعرے لگوائے ’ہم سب ملالہ ہیں۔‘

ملالہ ڈے پر اقوام متحدہ میں بھارت کی امتیازی سلوک و تشدد کی سابقہ شکار نابینہ نوجوان معذور لڑکی اشونی بھی تھی، تو بنگلہ دیش کی سابقہ چائلڈ لیبر کی شکار بچي رضیہ بھی اور گھریلو تشدد کی شکار نیپال کی دلہن بـچی نرملا بھی۔ یہ سب ملالائيں تھیں۔

’ایک کتاب، ایک قلم اور ایک استاد دنیا بدل سکتا ہے۔‘ ملالہ نے اپنے خطاب میں کہا۔ میں ہال میں بیٹھے نیلے سوٹ میں ملبوس ملالہ کے والد ضیا الدین یوسف زئی کو دیکھ رہا تھا۔ ان کے ‍ قریب ملالہ کی ماں کی آنکھوں میں بار بار آنسو آ رہے تھے۔ یہ خوشی کے آنسو تھے۔ ہم برصغیر کے لوگ عجیب ہیں، خوشی کے موقعے پر بھی رو دیتے ہیں۔ میں نے سوچا کون کہتا ہے کہ پاکستان میں قیادت نہیں بن سکتی۔ یہاں تو ملالہ آگے تھیں، دنیا کے رہنما اس لڑکی کے پیچھے تھے۔

ملالہ کہہ رہی تھیں ’میں تو طالبان کے بچوں اور دیگر انتہاپسندوں کے بچوں کے تعلیم کے حق کے لیے بھی مرتی رہوں گی۔‘

ملالہ کی تقریر کے اختتام پر مجھ سے ایک امریکی صحافی پوچھ رہی تھیں ’تم دوسرے جنم میں یقین رکھتے ہو؟‘

آج میں نے دیکھا کہ نہ فقط ملالہ کی والدہ، پر نہ جانے کتنی عورتوں اور مردوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

اسی بارے میں