لال مسجد آپریشن: مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت

Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو شدید خطرات لاحق ہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ سنہ دوہزار سات میں لال مسجد پر ہونے والے فوجی آپریشن سے متعلق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف اگر کوئی جُرم بنتا ہے تو اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

اس کے رد عمل میں اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

سنہ دوہزار سات میں لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ میں سکیورٹی فورسز کے جانب سے آپریشن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ مسجد میں شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی جو کہ قانون کی عمل دراری کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔

اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے لال مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی کے بیٹے حافظ ہارون رشید نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

جسٹس نورالحق قریشی نے اس درخواست کی سماعت کی۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف، جو اُس وقت فوج کے سربراہ بھی تھے، نے اقتدار کے نشے میں کمانڈوز کو کارروائی کا حکم دیا جس میں سینکٹروں افراد ہلاک ہوگئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل طارق اسد نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لال مسجد آپریشن سے متعلق فیڈرل شریعت کورٹ کے جج کی سربراہی میں بنائے گئے کمیشن نے اس واقعہ کی ذمہ داری پرویز مشرف پر عائد کی تھی۔

اس کے علاوہ اُس وقت سابق فوجی صدر کے قریبی ساتھیوں نے بھی کمیشن کو بیان دیتے ہوئے اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر عائد کی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ سنہ دوہزار سات میں لال مسجد آپریشن کے فوری بعد ہی اُن کے موکل نے آبپارہ پولیس سٹیشن میں اُس وقت کے صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

جسٹس نور الحق قریشی نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تھے۔

اُنہوں نے متعقلہ پولیس سٹیشن کے انچارج کو حکم دیا ہے کہ وہ درخواست گُزار کا موقف سنیں اور جُرم ثابت ہونے کی صورت میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

تھانہ آبپارہ پولیس کے انچارج قاسم نیازی کا کہناہے کہ اس معاملے میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے کو پولیس کی لیگل برانچ میں بھجوایا جائے گا اور قانونی رائے لینے کے بعد اس پر کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف تین مقدمات درج ہیں جن میں سے وہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور اعلی عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔

سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل میں اُن کی ضمانت کی درخواست پر پندرہ جولائی کو بحث کی جائے گی۔ سابق فوجی صدر ان دنوں اپنے فارم ہاؤس میں ہیں جیسے اسلام آباد کی انتظامیہ نے سب جیل قرار دیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں