شکر ہے یہ فلم ہے

اوساما
Image caption ’امریکیوں نے اسامہ کی تلاش میں پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ اور حدود کو پامال کیوں کیا‘

خدا کا شکر ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی حتمی رپورٹ وزیرِاعظم کے دفتر میں محفوظ و مامون ہے اور میڈیا جس رپورٹ کو کمیشن رپورٹ کے طور پر پیٹ رہا ہے وہ اصل رپورٹ کی غیرمصدقہ، نامکمل اور مسخ شکل ہے مگر اصل رپورٹ شائع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ قومی مفاد سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

پاکستانی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کی مذکورہ اطلاع سن کے نہ صرف دل و دماغ میں چلنے والے بے بنیاد جھکڑ بند ہوگئے بلکہ وہ سردار جی بھی خوامخواہ یاد آگئے جو ایک ایکس ریٹڈ فلم دیکھتے ہوئے اس وقت دھک سے رہ گئے جب انہیں احساس ہوا کہ ایک سین میں ان کی گرل فرینڈ بھی ہے۔ پھر انھوں نے خود ہی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا، ’شکر ہے یہ فلم ہے ورنہ میں تو پتا نہیں کیا سمجھ بیٹھا تھا!‘

پاکستان میں کسی بھی معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی یا کمیشن کی تشکیل کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ ذمہ داروں اور ان کی غفلتوں کا تعین کر کے جزا و سزا کے ذریعے آئندہ ڈھانچہ ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ اس کا مقصد کسی بھی فوری ردِعمل کا رخ موڑنا ہوتا ہے۔ جیسے کسی بھی معاملے کو سر سے ٹالنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے کا کرتب یا کسی لاک اپ میں ملزم کی موت پر عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے متعلقہ ایس ایچ او کی معطلی یا تبادلہ یا کچی ایف آئی آر کا درج کیا جانا۔

لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات سے لے کر آج تک جو بھی حساس کمیشن قائم ہوئے ان کی رپورٹ یا تو اہم قومی مفاد کے بلیک ہول میں غائب ہوگئی یا دشمنوں نے کسی غیرملک میں سمگل کر کے شائع کردی یا پھر ریٹائرڈ پالیسی سازوں اور جرنیلوں کے منھ سے کتابی شکل میں قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی۔لیکن حکومتوں کو تب بھی اصلی اور باتصویر رپورٹ شائع کرنے کا حوصلہ نہیں پڑا۔ حالانکہ کسی بھی کمیشن نے اپنی سفارشات میں یہ قدغن نہیں لگائی کہ اس کی رپورٹ مفادِ عامہ میں شائع نہیں ہوسکتی۔اور اب تو کہنے کو ملک میں فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ بھی نافذ ہے۔

دیکھیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ 1971 میں بنگالیوں کو بیلٹ کے بدلے بلٹ سے کیوں روکا گیا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی فوجیں مشرقی پاکستان میں گھسیں کیسے؟ لہٰذا بھارت مردہ باد۔۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہر معاملے کو پیشگی سونگھنے کی دعوے دار اسٹیبلشمنٹ کی ناک کے نیچے نو سال تک کیسے قیام پذیر رہا بلکہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکیوں نے اسامہ کی تلاش میں پاکستان کے اقتدارِ اعلی اور حدود کو پامال کیوں کیا۔چنانچہ امریکہ مردہ باد۔۔

چنانچہ رپورٹ باضابطہ طور پر شائع کرنے اور اس کی سفارشات پر عمل درآمد سے کہیں زیادہ اہم قومی مسئلہ یہ ہے کہ یہ رپورٹ کس غدار نے اوریجنل کاپی سمجھ کر افشا کی ۔اصل مجرم وہی ہے ۔اس لیے اس پر چھتر پھیرنا ازبس ضروری ہے۔

شکر ہے سن 65 کی لڑائی کے اسباب، افغان جہاد میں پاکستان کو گھسیٹے جانے اور اس کے طفیل پاکستان کو پہنچنے والے فوائد و نقصانات اور کرگل کی لڑائی کی وجوہات کو کسی کمیشن کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ نہ بھٹو کی پھانسی کے ری ٹرائل، ضیا الحق کی پراسرار موت، لال مسجد کارروائی کے اسباب، بے نظیر بھٹو کے قتل، کراچی اور بلوچستان میں مسلسل خراب حالات اور غائب لوگوں کی لاشوں کی حقیقت جاننے میں کسی نے سنجیدگی سے دلچسپی لی۔ ورنہ سرکاری ردی خانے میں حسبِ معمول چند کاغذوں کا اور اضافہ ہوجاتا۔

جس سماج کا نامعلوم ہاتھ، بیرونی سازش، اسلام و پاکستان دشمن قوتوں، کالی بھیڑوں، مٹھی بھر شرپسندوں، میر جعفر و صادق کے اسمائے گرامی، یہودی لابی، را کے ایجنٹ، گمراہ لبرل کلاس، بیرونی ثقافتی یلغار وغیرہ جیسی لفظیات پر ہی گذارا ہوجاتا ہو، اسے حقائق کے رفو در رفو زدہ گریبان کو تار تار کرکے نیا لباس سینے سے بھلا کیوں دلچسپی ہو۔

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا۔۔۔

اسی بارے میں