’پاکستان سے کوئی شدت پسند باہر نہیں گیا‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ذرائع ابلاغ میں پاکستانی طالبان کے شام جانے کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے کوئی شدت پسند ملک سے باہر نہیں گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے بی بی سی کے نامہ نگار عبداللہ فاروقی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ پاکستان ایسا چاہے گا کہ شدت پسند عناصر یہاں سے دیگر ملکوں کو سفر کریں اور وہاں جا کر کارروائیاں کریں یا وہاں جاری خانہ جنگی میں حصہ لیں نہ ہی پاکستانی حکام اُن کو ایسا کرنے دیں گے۔‘

دوسری جانب وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے بھی ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی بلوچستان پولیس سمیت خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام سے اس سلسلے میں معلوم کیا گیا ہے لیکن تمام اداروں کی جانب سے طالبان کے شام جانے کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے باہر جانے کے تمام راستوں پر متعلقہ عملہ چوکس ہے اور عسکریت پسندوں کے حوالے سے ملک کی داخلہ پالیسی واضح ہے۔

نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے دمشق میں پاکستان کے سفیر وحید احمد نے کہا کہ شامی حکومت کی طرف سے پاکستانی سفارتخانے کو ایسی کوئی شکایت نہیں ملی ہے کہ وہاں پاکستانی عسکریت پسندوں نے کوئی اڈہ قائم کیا ہے یا ان کے شامی باغیوں سے کسی طرح کے رابطے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی طالبان نے پچھلے ہفتے کے اختتام پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے ان کے بقول شام میں جاری جہاد پر نظر رکھنے کے لیے وہاں اپنا اڈہ قائم کیا ہے۔

طالبان کے اہم رہنما اور شامی اڈے کے رابطہ کار محمد امین نے بی بی سی کے احمد ولی مجیب کو بتایا تھا کہ اس ’جہاد‘ کی نگرانی کے لیے چھ ماہ قبل شام میں ایک سیل قائم کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق اس سیل کو تحریکِ طالبان اور اس کے حامی شدت پسند گروپوں کی حمایت حاصل ہے اور یہ سیل شام کے تنازعے کے بارے میں ’معلومات‘ پاکستان میں موجود طالبان کو بھیجتا ہے۔ محمد امین کے مطابق اس سیل میں شامل افراد کی مدد ’شام میں موجود پاکستانی طالبان کے وہ دوست کرتے ہیں جو ماضی میں افغانستان میں لڑتے رہے ہیں۔

‘ان کا کہنا تھا کہ اس سیل کا کام ’شام میں جہاد کی ضرورت کا اندازہ لگانا اور شامی دوستوں کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائیوں کا انتظام کرنا ہے۔‘

طالبان رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان سے درجنوں افراد شام میں حکومتی فوج کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے منتظر ہیں لیکن فی الحال ان کے بقول وہاں سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں ابھی افرادی قوت کی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں