بجلی کی چوری پر پیسکو کی اشتہاری مہم

Image caption پیسکو کا کہنا ہے کہ بجلی کی چوری کے حوالے سے مخصوص پولیس سٹیشنز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

پشاور میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیسکو نے بجلی کی چوری روکنے کے لیے نئی اشتہاری مہم شروع کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی چوری گناہ ہے اور اپنی عبادات اور کاروبار جائز بجلی کی روشنی میں کریں۔

پیسکو کے ترجمان کا کہنا ہے بہت جلد بجلی چوری کے حوالے سے مخصوص پولیس سٹیشنز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

پشاور شہر میں مختلف مقامات پر بینرز اور پوسٹرز آویزاں کر دیےگئے ہیں جن پر پیغامات درج ہیں۔ ان میں کچھ بینرز پر کاروباری حضرات کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اپنا کاروبار جائز بجلی کی روشنی میں کریں جبکہ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ والدین کی خدمت اور اپنی عبادات جائز بجلی کی روشنی میں ادا کریں۔ ان اشتہارات میں مذید کہا گیا ہے کہ ایسا کریں تا کہ آپ کی مغفرت ہو اور آپ کا رزق حلال ہو ۔

یہ اشتہاری مہم وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے اس بیان کے بعد شروع کی گئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا کو اس کا پورا حق نہ دیا گیا تو وہ خود احتجاجی مہم میں شامل ہوں گے۔

ان اشتہارات کے بارے میں عام لوگوں نے متضاد خیالات کا اظہار کیا ہے اور بیشتر کا کہنا تھا کہ اگر سستی کر دی جائے تو ہو سکتا ہے کہ لوگ بجلی کی چوری روک دیں۔

ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ پیسکو کو چاہیے کہ اپنے ملازمین پر نظر رکھیں جو بجلی چوری میں لوگوں کی معاونت کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا اس طرح کی مہم سے بجلی چوری پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ جبکہ ایک باریش بزرگ کا کہنا تھا کہ یہ پیغام موثر ہیں اور ان سے لوگوں پر ضرور اثر پڑے گا۔

پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں ان دنوں شدید لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جس کے خلاف وزیر اعلی پرویز خٹک نے بھی آواز اٹھائی ہے لیکن انھوں نے کہا ہے کہ واپڈا ان کے اختیار میں نہیں ہے ۔

وزیر اعلی پرویز خٹک اور پیسکو چیف طارق سدوزئی کے درمیان چند روز پہلے ایک اخباری کانفرنس میں یہ بحث بھی شروع ہوگئی تھی جس میں پیسکو حکام کہہ رہے تھے کہ صوبے کو بجلی پوری مل رہی ہے جبکہ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ کو بریفنگ میں آپ نے کہا تھا کہ صوبے کو بجلی پوری نہیں مل رہی تو اب یہ غلط بیانی سے کام کیوں لے رہے ہیں۔

اشتہاری مہم کے بارے میں پیسکو کے ترجمان شوکت افضل کا کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد بجلی چوری کو روکنا ہے تاکہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا سکے ۔ انھوں نے کہا کہ اس مہم کے بعد لوگوں نے ٹال فری نمبر پر فون کر کے بجلی چوری کی نشاندہی کی ہے جس پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بجلی کی چوری کے بارے میں مختلف علماء سے فتوے بھی حاصل کیے گئے ہیں جنھوں نے اسے گناہ قرار دیا ہے۔

شوکت افضل کے مطابق پولیس کی خدمات بھی حاصل ہیں اوراس سلسلے میں جلد پولیس سٹیشنز بھی قائم کیے جائیں گے جس میں بجلی کی چوری پر مقدمات درج ہوں گے۔

خیبر پختونخوا میں ان دنوں بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے باوجود لوڈ شیڈنگ میں کمی نہیں آ رہی۔

اسی بارے میں