صدارتی الیکشن، سو روپے میں!

Image caption صدر آصف علی زرداری کے عہدے کی معیاد آٹھ ستمبر کو ختم ہور ہی ہے

چیف الیکشن کمیشن نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی فارم کی فراہمی شروع کردی ہے اور اس کی قیمت ایک سو روپے مقرر کی گئی ہے۔

کاغذات نامزدگی اسلام آباد میں چیف الیکشن کمیشن یا چاروں صوبائی چیف الیکشن کمشنرز کے دفاتر سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم کے مطابق کاغذات نامزدگی حاصل کرنے یا جمع کروانے کے لیے اُمیدوار کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے تاہم اُمیدوار کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کا کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت موجود ہونا ضروری ہے۔

تجویز کنندہ اور تائید کندہ کا رکن قومی یا صوبائی اور یا پھر سینیٹ کا رکن ہونا ضروری ہے۔

کاغذات نامزدگی چوبیس جولائی کو جمع ہوں گے جبکہ چھبیس جولائی کو ان کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی اور اُنتیس جولائی کو کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکیں گے۔ صدارتی انتخابات میں پولنگ چھ اگست کو ہوگی جبکہ سات اگست کو سرکاری طور پر ان انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم ریٹرنگ افسر ہوں گے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ چھ اگست کو پولنگ کے روز وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں پریذائڈنگ افسر کی خدمات انجام دیں۔

صدارتی انتخابات کے دوران صوبائی الیکشن کمشنرز صوبائی اسمبلیوں میں بطور پریزائڈنگ افسرز اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

صدر آصف علی زرداری کے عہدے کی معیاد آٹھ ستمبر کو ختم ہور ہی ہے اور اُن کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ آصف علی زردرای آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سیاسی جماعتوں میں مشاورت کا عمل شروع ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے تین چار نام سامنے آرہے ہیں جو صدارتی اُمیدوار بن سکتے ہیں جن میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری اقبال ظفر جھگڑا، جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد اور ممتاز بھٹو کے نام شامل ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون اور اُس کے اتحادیوں کو قومی اسمبلی، پنجاب اور بلوچستان میں واضح برتری حاصل ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ اسمبلی میں بھی اُن کی نمائندگی موجود ہے۔

صدارتی انتخابات میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ووٹ ایک ووٹ شمار ہوتا ہے جبکہ پنجاب میں پانچ عشاریہ سات، خیبر پختونخوا میں ایک عشاریہ نو تین جبکہ صوبہ سندھ میں دو عشاریہ پانچ نو ارکان اسمبلی کے ووٹ ایک ووٹ شمار ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد تمام صوبوں کی رائے کو اس انتخاب میں مساوی وزن دینا ہے۔

وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے سپیکر کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ حکمراں جماعت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ صدارتی اُمیدوار صوبہ خیبر پختونخوا یا سندھ سے لیا جائے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ان صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں