پاکستان کا اگلا صدر کون ہو گا؟

Image caption میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے درمیان صدارتی امیدوار کے بارے میں کچھ ’انڈرسٹینڈنگ‘ موجود ہے: پارٹی ذرائع

پاکستان میں صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لیکن حکمران جماعت کی جانب سے ابھی تک متوقع صدارتی امیدوار کے نام کے بارے میں باضابطہ مشاورت شروع نہیں کی گئی ہے۔

قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ پر مشتمل صدارتی الیکٹورل کالج میں اکثریتی جماعت ہونے کے ناطے امکان یہی ہے کہ آئندہ صدر پاکستان مسلم لیگ نواز ہی سے ہو گا۔

لیکن وہ خوش قسمت کون ہے؟ اس بارے میں حکمران جماعت کے بیشتر رہنماء ابھی تک لا علم ہیں۔

مسلم لیگی ذرائع کہتے ہیں کہ تاحال اعلیٰ پارٹی قیادت نے صدارتی امیدوار کے نام پر غور کرنے کے لیے نہ تو کوئی باضابطہ اجلاس طلب کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں باضابطہ تجاویز طلب کی ہیں۔

مسلم لیگ کی مرکزی شوریٰ کے ایک رکن نے، جو کہ اعلیٰ پارٹی قیادت کے قریب بھی سمجھے جاتے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے درمیان صدارتی امیدوار کے بارے میں کچھ ’انڈرسٹینڈنگ‘ موجود ہے لیکن وہ صاحب کون ہیں، اس بارے میں انہوں نے کسی دوسرے پارٹی رہنما کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ موضوع مسلم لیگ ن میں زیربحث لانے پر پابندی ہے۔ مختلف مواقع پر اس موضوع اور بعض ناموں پر رسمی اور غیر رسمی پارٹی اجلاسوں میں اس بارے میں گفتگو بھی ہوتی رہی ہے اور بعض ناموں پر بحث بھی چلتی رہی ہے۔

سرتاج عزیز

Image caption ایسے میں سرتاج عزیز کا کرسی صدارت پر فائز ہونا ان کی بڑی خوش قسمتی ہو گا

پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور خارجہ و سلامتی کے معاملات پر وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اپنے طور پر صدارت کا امیدوار بننے کے مضبوط امیدوار ہیں۔ ان کے حق میں جو دلائل دیے جا رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ چھوٹے صوبے یعنی خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پر مسلم لیگ کی حکومت نہیں ہے۔ ایسے میں صدر اس صوبے کا ہو تو لوگوں کے لیے پیغام بھی اچھا جائے گا اور اس صوبے کے لوگوں سے تعلق بھی مضبوط ہو گا جو آئندہ انتخاب میں عمران خان کی پارٹی کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

سرتاج عزیز کا دوسرا اہم مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ معیشت، خارجہ اور سلامتی کے امور کو سمجھتے ہیں۔

پھر یہ کہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انہوں نے انتھک محنت سے پارٹی کی قیادت کو متاثر بھی کیا ہے۔ ان کی دیانت پر بھی کسی کو شبہ نہیں ہے۔

سرتاج عزیز کو البتہ ایک نکتے پر پارٹی کے اندر ان کے مخالفین چاروں شانے چت کر دیتے ہیں، اور وہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان کا ’غیر جانبدار‘ ہو جانا ہے۔

سرتاج عزیز اس الزام کے جواب میں طویل دلائل دے کر اپنے مخالفین کو خاموش تو کروا دیتے ہیں لیکن بعض لوگ ان کے جوابات سے دلی طور پر مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

مثلاً جب شریف خاندان زیراعتاب تھا تو وہ پارٹی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے کے بجائے درس و تدریس میں مشغول کیوں رہے؟ شریف برادران اس موضوع کے بارے میں جتنے حساس ہیں، سینیئر پارٹی رہنما سمجھتے ہیں کہ ایسے میں سرتاج عزیز کا کرسی صدارت پر فائز ہونا ان کی بڑی خوش قسمتی ہو گا۔

راجہ ظفر الحق

Image caption راجہ ظفرالحق کا تعلق اسلام آباد سے ہے

فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ایک موقع پر اپنی وفاداری تبدیل کرنے کے عوض نواز لیگ کے اس چیئرمین کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی تھی۔ یہ بات راجہ ظفرالحق کئی مرتبہ پارٹی میٹنگوں میں دہرا چکے ہیں۔ یہ خاصہ متاثر کن بیان ہوتا ہے اور حاضرین ان کی اس قربانی کا داد بھی دیتے ہیں۔ ان کی یہ ’قربانی‘ پارٹی وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

لیکن راجہ صاحب کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان کے اس دعوے کی ’آزاد ذرائع‘ سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ لیکن جو مسئلہ راجہ ظفرالحق کے لیے زیادہ گمبھیر ہے وہ ان کا پنجابی ہونا ہے۔اس وجہ سے وہ ن لیگ کے اس معیار پر پورا نہیں اترتے کہ صدر پاکستان بڑے صوبے سے نہیں ہو گا۔

ویسے شریف برادران نے سنہ دو ہزار میں بیرون ملک جاتے جاتے جاوید ہاشمی کو پارٹی کا صدر بنایا تھا۔ شریفوں کی یہ ادا راجہ ظفر الحق کو پسند نہیں آئی تھی۔ اس وجہ سے نواز شریف نے انہیں پارٹی کا چیئرمین نامزد کیا تھا۔ یہ ایسا عہدہ تھا جو پارٹی آئین میں موجود ہی نہیں تھا۔

سید غوث علی شاہ

صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے غوث علی شاہ مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والی سندھ سے سب سے بھاری شخصیت ہیں۔ ان کی پارٹی سے طویل وابستگی ان کو پارٹی میں شریف برادران کے بعد اہم ترین راہنماء کے طور پر تسلیم کرواتی ہے۔ ایک زمانے میں غوث علی شاہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی اس جماعت میں واحد توانا سندھی آواز تھے۔

غوث علی شاہ کے لیے حالیہ انتخابات اس لحاظ سے اچھے نہیں رہے کہ وہ کسی حد تک متنازع ہو گئے ہیں۔ پارٹی کا ایک حلقہ ان پر الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر صوبہ سندھ میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں بیشتر حلقوں پر اچھے امکانات ہونے کے باوجود وہاں امیدوار ہی کھڑے نہیں کیے۔ غوث علی شاہ کے مخالفین شک کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسا، مخالف سیاسی جماعت کو فائدہ دینے کے لیے کیا تھا۔

ممتاز بھٹو

Image caption ممتاز بھٹو نے اپنی پوری جماعت ن لیگ میں ضم کر دی ہے

ممتاز بھٹو نے جس انداز میں پنجاب کی اکثریتی جماعت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے اس نے شریف برادران کا دل موہ لیا ہے۔ بات اتحاد کی چل رہی تھی، ممتاز بھٹو نے اپنی پوری جماعت ن لیگ میں ضم کر کے دونوں جماعتوں کے پارٹی رہنماؤں کو حیران کر دیا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ ممتاز بھٹو نے کسی وزارت، مشاورت یا عہدے میں اپنے یا اپنے ساتھیوں کے لیے زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ انہوں نے انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر بھی قیادت کے تمام فیصلے بے چوں و چراں تسلیم کیے۔

ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ ممتاز بھٹو شاید سمجھتے ہیں کہ کوئی جانتا نہیں ہے کہ ان کی یہ ساری ’قربانیاں‘ صدر پاکستان کے عہدے کے لیے ہیں۔

نواز برادران کو برسوں سے جاننے والے کہتے ہیں کہ جیسے ایک میان میں دو تلواری نہیں رہ سکتیں اسی طرح اسلام آباد کے دو ’بڑے گھروں‘ میں دو ’بڑی اناؤں‘والوں کا گزارا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ممنون حسین

Image caption گزشتہ کچھ عرصے سے ممنون حسین کی شریف برادران سے قربت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

یہ نام بیشتر پڑھنے والوں کے لیے غیر معروف ہو گا۔ لیکن گزشتہ پندرہ برس سے نواز شریف کے قریب رہنے والے ان صاحب اور ان کی شریف خاندان میں مقبولیت سے خوب واقف ہیں۔ گو ممنون حسین صرف چار ماہ کے لیے ہی گورنر سندھ رہے کہ نواز حکومت کا تختہ الٹ گیا، لیکن اس دوران اور اس کے بعد انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ شریف خاندان کی توقعات سے زیادہ تھا۔

خاموش طبع اور منکسرالمزاج ممنون حسین کے پاس کوئی بڑا پارٹی عہدہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی کسی پارٹی یا سرکاری عہدے کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ممنون حسین کی شریف برادران سے قربت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ بالخصوص انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران ممنون حسین کا جو رسوخ سامنے آیا اس نے بہت قریبی اور اہم سمجھے جانے والے پارٹی رہنماؤں کو بھی اگر حیران نہیں تو پریشان ضرور کر دیا۔

یہ وہ نام ہیں جو کسی نہ کسی سطح پر مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم پر صدارتی امیدوار کے طور پر زیر بحث آتے رہے ہیں۔ پارٹی کے بعض اہم رہنما البتہ سمجھتے ہیں کہ رفیق تارڑ کی طرح صدارتی امیدوار کوئی’چھپا رستم‘ بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں