عدالت کا دباؤ، بلدیاتی نظام پر مشاورت

Image caption اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے

سپریم کورٹ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے لیے دباؤ کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ معاملہ سیاسی قیادت کے ایجنڈے پر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

لاہور میں ہونے والے اجلاس میں آج نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کی تجاویز کی منظوری دی گئی اور اس مسودے کو زیر بحث لانے کے لیے پنجاب اسملبی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری بھی گورنر کو بھجوا دی گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ماضی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پنجاب میں کوئی ٹھوس پیشرفت کیوں نہیں ہوسکی اور کیا اب مسلم لیگ ن کی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کروا سکے گی؟

سابق صدر مشرف کے دورحکومت میں نافذ کیا جانے والا بلدیاتی نظام دوہزارنو میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہوا اور پھر اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری قرار دی گئی لیکن کئی برس تک صوبوں میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے۔

پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے ادارے فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک سے وابستہ رشید چوہدری کہتے ہیں ’ آئین کی کسی بھی شق پر اس وقت تک عمل دارآمد نہیں ہو پاتا جب تک کہ اس کے لیے قانون سازی نہ ہو۔ سندھ اور بلوچستان نے تو کافی عرصے سے اس حوالے سے قانون بنارکھے ہیں اور ابھی حال ہی میں خیبرپختونخوا نے بھی ایک بل کی منظوری دی ہے لیکن پنجاب کئی برسوں سے اس پر کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں کرپایا۔ اس طرح کی آئینی ذمےداری پر اس قدر سستی کیوں دکھائی گئی اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اس معاملے کو التوا میں ڈالنے پر خاموشی پر اتفاق کررکھا تھا۔‘

پنجا ب میں تقریبا چار برس تک بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی کو التوا میں رکھنے کے باعث صوبے میں تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ مشرف دور کا بلدیاتی نظام ہی نافذ رہا۔ تاہم صوبے کے ساتھ ضلعی اور مقامی سطح پر بھی اختیارات کا محور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی ذات ہی رہی۔

اب صوبے میں نئے بلدیاتی نظام سے متعلق قانون سازی کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

بلدیاتی نظام پر کئی کتابوں اور مقالوں کے مصنف زاہد اسلام کہتے ہیں ’دوہزار ایک کے مشرف کے بلدیاتی نظام میں جو ضلع کونسلوں کے اختیارات اور فرائض تھے ان کو یہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ وہیں رہیں لیکن یہ شہری علاقوں میں وہ ادارے بحال کرنا چاہتے ہیں جو انیس سو نواسی کے بلدیاتی ماڈل میں موجود ہیں ۔ مشرف دور میں ضلعی حکومتوں کے پاس تیرہ شعبے تھے اب یہ سات شعبے مقامی حکومتوں کو دینا چاہتے ہیں۔‘

سابق صدر مشرف کے دور میں مقامی حکومتوں کے قانون کا اعلان تئیس مارچ سن دوہزار کو کیا گیا تقریبا ایک برس تک ہر سطح پر مشاورت کی گئ جس کے بعد چودہ اگست دو ہزار ایک کو اس کی منظوری ہوئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پنجاب حکومت کو بھی بلدیاتی نظام کے نئے مسودے کو اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد اخبارات میں مشتہر کردینا چاہیے تاکہ سول سوسائٹی اور عوام اس پر اپنی رائے دے سکے۔

بلدیاتی نظام کی ترقی کےلیے کام کرنے والی ایک تنظیم پالیسی ادارہ برائے دیہی ترقی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اظہر لاشاری کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے اپنے نئے مسودے پر سول سوسائٹی کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔

’پہلے آمروں کے بنائے ہوئے قانون ہیں اب ِانھوں نے پہلے اس میں سے کچھ اٹھا کر اور اس میں اپنی ضرورت کے مطابق کچھ نکات ڈال کر قانون سازی کرنی ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ قانون سازی کا جمہوری طریقہ ہے۔ اگر اس طرح کے قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں اور نئی حکومتیں آتی ہیں تو اپنی روح میں یہ نظام غیر جمہوری ہی ہو گا۔‘

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی رانا محمد ارشد کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت عدالت کے حکم پرعملدرآمد کی پوری کوشیش کرے گی لیکن اگر ضرورت ہوئی تو مزید وقت مانگا جاسکتا ہے۔

’مسلم لیگ ن نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ وہ چھ ماہ کے دوران یہ انتخابات کروا دیں گے اور اب جس طرح سے عدالت کا حکم آیا ہے انشااللہ ہم پوری کوشیش کریں گے۔بلدیاتی قانون میں کچھ ترامیم کرنا تھیں اس کے لیے جلد ہی پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلایا جارہا ہے اور اگر ہمیں لگا کہ وقت کم ہے ستمبر تک تو ہم عدالت سے مزید وقت کے لیے درخواست کریں گے۔‘

پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت تعلیم اور صحت کی الگ الگ اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔ جبکہ شہروں میں مصالحتی کونسلز اور دیہات میں پنجائتی نظام رائج کیا جائے گا۔

پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کا رنگ کیا ہوگا۔ عدالت کے دباؤ پر ہی سہی آئندہ چند ہفتوں میں یہ بات واضح ہوجائے گی۔

اسی بارے میں