’ترقیاتی فنڈ من پسند افراد کو دینے کی اجازت نہیں‘

Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز منتخب نمائندوں کو دینے سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں

پاکستان کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی آڑ میں اربوں روپے من پسند افراد کو دینے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک سابق رکن اسمبلی کو بھینسوں کےسوئمنگ پول بنانے کے لیے کروڑوں روپے دیے گئے جس پر عدالت کا کہنا تھا تو کیا اب بھینسیں بھی سوئمنگ کریں گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز کی مدد سے بنائے گئے کمیونٹی سکولوں میں بچوں کے پڑھنے کی بجائے وہاں پر بھینیس بندھی ہوتی ہیں۔

عدالت نے کہا کہ آئین میں ترقیاتی اور صوابدیدی فنڈز من پسند افراد کو دینے کی اجازت نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اس از خود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز منتخب نمائندوں کو دینے سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم کی جانب سے اربوں روپے کے صوابدیدی فنڈز میں کروڑوں روپے ایسے افراد کو دیے گئے جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایسے افراد کو تلاش کرے کیونکہ یہ قومی دولت ہے اور اسے ایسے نہیں لُٹایا جاسکتا۔

درخواست گُزار کے وکیل افتخار گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ ترقیاتی فنڈز میں سے رقم وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈز میں نہیں دی جا سکتی جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جن ترقیاتی منصوبوں کا بجٹ میں ذکر نہیں اُن منصوبوں کے لیے رقم کیسے خرچ کی جا سکتی ہے؟۔

افتخار گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان کے گورنر اور وزیر اعلی کے کیے بھی صوابدیدی فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق رکن قومی اسمبلی فوزیہ بہرام کو بھینسوں کے لیے سوئمنگ پول تعمیر کرنے کے لیے کرڑوں روپے دیے۔

دوسری جانب فوزیہ بہرام نے بھینسوں کے تالاب کے لیے کروڑوں روپے کا فنڈ حاصل کرنے کے بارے میں بی بی سی کو اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم پرویز اشرف نے انھیں کوئی فنڈ نہیں دیا اور اس سلسلے میں پرائم منسٹر سیکریٹریٹ سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے نام پہ کوئی ایک ڈائریکٹو ایشو نہیں کیا گیا تاہم بھینسوں کے تالاب کے آڈٹ کی موجودگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ آڈٹ جھوٹا ہے۔

انھوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ بھینسوں کا کوئی سوئمنگ پول موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں مجھے کوئی پیسے دیے گئے۔

فوزیہ بہرام کے مطابق انھوں نے اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈ ضرور مانگا تھا جو انھیں کبھی نہیں دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ان کے گاؤں لیلا میں انٹر چینج کا افتتاح بھی کیا لیکن کبھی بھی اس سلسلے میں فنڈ جاری نہیں کیا۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زیادہ تر ترقیاتی منصوبے صوبوں کو منتقل کردیے گئے تھے اور اس میں وفاق کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں سے عوام کو فائدہ نہ پہنچے تو اس کا مطلب ہے کہ اس فنڈ کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں صوابدیدی فنڈز سے متعلق جحمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے 37 ارب روپے پاکستان پیپلز پارٹی اور حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے ارکان میں تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ صوابدیدی فنڈز میں وہ من پسند افراد بھی شامل ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ راجہ پرویز اشرف نے آخری پندرہ روز میں اربوں روپے نکلوائے اور وزیر اعظم ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صوابدیدی فنڈز کا بےدریغ استعمال کیا جائے۔

راجہ پرویز اشرف کے وکیل وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جو بھی فنڈز استعمال کرتے ہیں آڈیٹر جنرل اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس کا آڈٹ کرتی ہے اور وزیر اعظم کے اقدامات کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر سابق حکومت نے چھ ارب روپے صوابدیدی فنڈز سے خرچ کیے تو آنے والی حکومت اس سے زیادہ خرچ کرے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ اس طرح ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ صوابدیدی فنڈز سے متعلق کوئی گائیڈ لائن جاری کرے۔

اسی بارے میں