’حکومت ستمبرتک بلدیاتی انتخابات کویقینی بنائے‘

Image caption بلدیاتی انتخابات کو ایک روز کے لیے بھی ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: عدالت

سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے نوے دن کی مہلت دینے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور چاروں صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ ستمبر تک ان انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کو ایک روز کے لیے بھی ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلوچسان میں امن وامان کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کی۔

پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے عدالت سے نوّے دن کی مہلت طلب کی جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ میں اُن جماعتوں کی حکومت ہے جوگُزشتہ پانچ سالوں سے اقتدار میں ہیں اور ان حکومتوں کی طرف سے تین ماہ کی مہلت مانگنا اچھا نہیں لگتا۔

صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کسی بھی وقت بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے تیار ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت سے بھی اس ضمن میں جواب طلب کر لیا ہے۔

پنجاب کے قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل مصطفی رمدے نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں کی جانی ہیں جس کے لیے قانون سازی کی بھی ضرورت ہوگی اس لیے نوے دنوں کی مہلت دی جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہیں تاہم کچھ قانونی تقاضے ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے بھی ایسا ہی موقف عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت سے استدعا کی گئی کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں کے لیے کچھ وقت دیا جائے ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دونوں صوبوں میں اب بھی اُنہی پارٹیوں کی حکومتیں ہیں جوگُزشتہ پانچ سال بھی اقتدار میں رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومتیں جن مسائل کا ذکر کر رہی ہیں یہ مسائل گُزشتہ پانچ سال کے دوران حل کیوں نہیں کیےگئے۔

الیکشن کمیشن کا موقف بھی صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومتوں سے مطابقت رکھتا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور انتظامات کے لیے مہلت دی جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے سابق صوبائی حکومتوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔

چیف جسٹس نے صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت کے موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن وامان کی صورت حال تسلی بخش نہ ہونے کے باوجود بھی وہ بلدیاتی انتخابات کروانے کو تیار ہیں۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے میں سنجیدہ ہے۔

چیف جسٹس نے پنجاب اورسندھ کی صوبائی حکومتوں کے علاوہ الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ تحریری جواب عدالت میں جمع کروائیں جس کے بعد بائیس جولائی کو اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔

اسی بارے میں