ڈی ایچ اے کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم

Image caption ڈی ایچ اے کے حکام یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) کے اکاؤنٹس میں بے ضابطگیوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت میں فوج کے زیرانتظام چلنے والے ادارے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد اور راولپنڈی کے اکاؤنٹ منجمد کر دیے ہیں۔

یہ اکاؤنٹس عدالتی حکم کے باوجود بائیس ارب ررپے سرکاری خزانے میں جمع نہ کراونے پر منجمد کیے گئے اور جمعہ کو عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جب تک یہ رقم جمع کروانے کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو آگاہ نہیں کیا جاتا اُس وقت تک اکاؤنٹ منجمد ہی رہیں گے۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ڈی ایچ اے اسلام آباد اور راولپنڈی کے حکام رقم کی ادائیگی تک کوئی نیا اکاؤنٹ بھی نہیں کھلوا سکتے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عدالت کے حکم پر ڈی ایچ اے کے وکیل نے کہا کہ عدالت ایسا حکم نہ دے ورنہ ڈی ایچ اے میں زمین کی قیمتیں گرجائیں گی۔

یاد رہے کہ ای او بی آئی کے پیسوں سے ڈی ایچ اے اور دیگر علاقوں میں سستی زمین مہنگے داموں خرید نے کے علاوہ اس رقم میں اربوں روپے کی بےضابطگیاں بھی ہوئی تھیں ۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کی تو ڈی ایچ اے کے وکیل احمر بلال صوفی نے عدالت کو بتایا کہ وہ گُزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جو بائیس ارب روپے جمع کروانے کا حکم دیا تھا اُس کے خلاف وہ ایک درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ بےشک درخواست دائر کریں لیکن عدالت اپنے حکم کو دیکھے گی جس میں ڈی ایچ اے کو بائیس ارب روپے جمع کروانے کا حکم دیا گیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ ڈی ایچ اے کے حکام یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں یا اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ غریب عوام کا پیسہ ہے جسے ہر صورت میں واپس لایا جائے گا۔

ڈی ایچ اے کے وکیل کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی کی رقوم زمین کی خریداری اور ڈویلپمنٹ پر خرچ کی گئی اور اس ضمن میں تمام معاہدے قانون کے مطابق کیے گئے۔

چیف جسٹس نے احمر بلال صوفی سے استفسار کیا کہ ڈی ایچ اے کے بینک اکاؤنٹس کہاں کہاں پر ہیں جس پر اُنہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بینچ میں موجود جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ غالباً یہ اکاؤنٹس عسکری بینک میں ہوں گے۔

ایف آئی اے کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے ابھی تک پانچ منصوبوں کا پتہ چلایا ہے جس میں بےضابطگیاں ہوئیں ہیں۔

حکام کے مطابق اُن میں اراضی کا ایک بڑا حصہ چکوال میں خریدا گیا مارکیٹ میں اُس کی قیمت ساٹھ ہزار روپے مرلہ تھی جبکہ اسے پندرہ لاکھ روپے مرلہ کے حساب سے خریدا گیا اور اس ڈیل میں سابق وزیراعظم کے قریبی رشتہ دار بھی ملوث ہیں۔ ایف آئی اے حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ تین فرموں نے پانچ ارب روپے سے زائد کی رقم واپس دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس سیکنڈل میں ملوث تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے گئے ہیں اور ای او بی آئی کے سابق چیئرمین ظفراقبال گوندل کی جائیداد ضبط کر لی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ای او بی آئی کے سابق چیئرمین اور ملزم ظفر اقبال گوندل پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کے بھائی ہیں۔ اس مقدمے میں اب تک ای او بی آئی کے تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں