سرتاج عزیز افغانستان پہنچ گئے

Image caption سرتاج عزیز کو واضح پیغام کے ساتھ کابل بھجوا رہے ہیں کہ پاکستان متحدہ افغانستان کا حامی ہے: نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ افغانستان کے دورے پر کابل پہنچ گئے ہیں۔ وفد میں سیکرٹری خارجہ جلیل عباس گیلانی اور دیگر اعلی حکام شامل ہیں۔

ان کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ سرتاج عزیز اس دورے میں افغان صدر حامد کرزئی سے افغانستان میں قیامِ امن کے حصول کے سلسلے میں بات چیت کریں گے اور انھیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دیں گے۔

کابل آمد کے فورا بعد پاکستانی وفد نے افغان سیکرٹری خارجہ زلمے رسول زاد سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقے میں امن وامان کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال ہوا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں طالبان کے دوحہ میں دفتر کھولے جانے کو کابل حکومت نے تشویش کی نظر سے دیکھا تھا، جب کہ پاکستان کا دعویٰ تھا کہ طالبان کو اس مرحلے تک لانے میں پاکستان نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ہے۔

سرتاج عزیز نے دورے سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ افغان قیادت سے باہمی تعلقات کی بہتری اور افغان صدر کرزئی کے پاکستان کے دورے کے بارے میں بات کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان فی الوقت نامکمل تجارتی معاہدے پر بھی بات کریں گے۔

سرتاج عزیز اس سے پہلے نوے کی دہائی میں میاں محمد نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں وفاقی وزیرِ خارجہ امور بھی رہ چکے ہیں۔

افغان حکومت نے متعدد بار پاکستانی حکام پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ پاکستانی حدود میں موجود طالبان شدت پسندوں سے نمٹنے میں ناکام ہے جس کا اثر افغانستان پر پڑتا ہے۔

ادھر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کے عمل کو آگے بڑھائے۔

نواز شریف نے یہ بات سنیچر کو اسلام آباد میں دفترِ خارجہ کے دورے میں خارجہ پالیسی کے بارے بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور مستحکم تعلقات کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر امن ماحول کے قیام میں مثبت کردارادا کرے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق نواز شریف نے تجارت کے فروغ اور اقتصادی سفارت کاری پرعملدرآمد کرنے پر خاص طور پر زور دیا۔

بریفنگ کے بعد وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں کسی خاص گروپ کا حامی نہیں اور وہ سرتاج عزیز کو واضح پیغام کے ساتھ کابل بھجوا رہے ہیں کہ پاکستان متحدہ افغانستان کا حامی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں کسی خاص گروپ کے ساتھ منسلک نہیں اور اس لیے افغانستان اور خطے کے امن کی خاطر جس گروپ سے بھی بات کرنے کی ضرورت پڑی، اس سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کسی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے۔

اسی بارے میں