’توانائی پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے مزید مہلت‘

Image caption وزیرِاعظم میاں نواز شریف مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی زیرِصدارت مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں پیش کردہ توانائی پالیسی کو مزید بہتر کرنے کے لیے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اسے مزید بہتر بنانے کے لیے مہلت مانگی ہے۔

پاکستان کی سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں منگل کو ہونے والے سی سی آئی کے اجلاس میں ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانے اور توانائی پالیسی پر غور کرنے کے بعد ختم ہو گیا۔

تمام صوبوں پر مشتمل کمیٹی توانائی پالیسی پر نظر ثانی کرے گی اور توانائی پالیسی اور آئینی امور کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرا علیٰ اور کونسل کے دیگر ارکان شریک ہوئے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کا اقتدار میں آنے کے بعد مشترکہ مفادات کونسل یا سی سی آئی کا یہ پہلا اجلاس تھا۔

اس سے پہلے ریڈیو پاکستان نے بتایا تھا کہ حکومت کوشش کرے گی کہ اجلاس کے شرکا کو توانائی کی موجودہ پیداوار اور مانگ کی صورتِ حال اور توانائی کے حصول کے بارے میں حکومتی پالیسی پر اعتماد میں لے۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق اجلاس میں ملک میں 2017 تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے اور 2018 تک اضافی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دینا تھا۔

نئی توانائی پالیسی میں سستی توانائی کی پیداوار اور تھرمل جیسی مہنگے توانائی کے ذرائع کم کرنے اور بجلی کے ترسیل کے موجودہ نظام کو موثر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اجلاس کے دوران حال ہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے کیا گیا قرضے کا معاہدہ بھی زیرِ بحث آنا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی دورِ حکومت میں بھی توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بات چیت ہوتی رہی ہے۔

جنوری میں ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وفاقی حکومت نے ہدایت کی تھی کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کو فراہم ہونے والی بجلی میں سے ساڑھے تین سو میگا واٹ کاٹ کر پنجاب کو فراہم کی جائے تاکہ پنجاب میں لوڈشیڈنگ کی صورت حال بہتر ہو سکے۔

اسی طرح نومبر 2012 میں مشترکہ مفادات کی کونسل نے بجلی کے نرخوں کا تعین کرنے والے ادارے ’نیپرا‘ کو کوئلے، شمسی توانائی، ہوائی چکیوں اور ایتھنول سے بجلی بنانے کے لیے جلد نرخ مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ صوبے اور نجی شعبہ نئے بجلی گھر لگائیں۔

اسی بارے میں