’اراکین مصروفِ عبادت ہوں گے، صدارتی انتخاب جلد کروائیں‘

Image caption مسلم لیگ نے ابھی تک اپنے صدارتی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی جانب سے صدارتی انتخاب قبل از وقت کروانے کے بارے میں درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے صدارتی انتخاب قبل از وقت کروانے سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

حکمران جماعت نے الیکشن کمیشن کی طرف صدارتی انتخاب کی تاریخ میں تبدیلی سے انکار کے بعد سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن کی طرف سے صدارتی انتخاب کے لیے چھ اگست کی تاریخ مقرر ہے۔

سپریم کورٹ نے اس درخواست کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو چوبیس جولائی سے معاملے کی سماعت کرے گا۔

اپنی درخواست میں حکمران جماعت نے موقف اختیار کیا تھا کہ صدارتی انتخاب کی تاریخ چھ اگست رمضان کے آخری عشرے میں آ رہی ہے اور تیس کے لگ بھگ ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جائیں گے جبکہ متعدد ارکان اعتکاف بھی بیٹھیں گے اس لیے صدارتی انتخاب چھ اگست کی بجائے تیس جولائی کو کرایا جائے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن صدارتی انتخاب کو قبل از وقت کروانے سے متعلق وزارت قانون کی طرف سے لکھے گئے خط کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔ اس خط میں بھی اسی طرح کا موقف اختیار کیاگیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب مقررہ تاریخ پر ہی ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم کے مطابق الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات سے متعلق ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق انتخاب میں خفیہ رائے شماری ہوگی۔ ارکانِ اسمبلی اپنے پسندیدہ اُمیدوار کے سامنے کراس کا نشان لگائیں گے اور یہ کراس لگانے کے لیے مخصوص پنسل استعمال کی جائے گی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

سینیٹر رضا ربانی پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے متفقہ اُمیداور ہوں گے جبکہ پاکستان مسلم لیگ قاف کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب میں اُن کی طرف سے کوئی بھی اُمیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے گا۔

یہ اعلان پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے طرف سے ابھی تک باضابطہ طور پر کسی اُمیدوار کا اعلان نہیں ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتوں کو صدارتی انتخاب میں واضح برتری حاصل ہے۔

اسی بارے میں