بگٹی قبائل کی آبائی علاقے میں واپسی

Image caption نواب اکبر بگٹی کے پہاڑوں میں چلے جانے کے بعد 40 سے 50 ہزار افراد بے گھر ہو گئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے 8 سال کے بعد ڈیرہ بگٹی میں واقع قلعہ خالی کر دیا ہے جس کے بعد بگٹی قبیلے کے سینکڑوں افراد واپس اپنے آبائی علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔

ان افراد کے قافلے کی سربراہی بگٹی قبیلے کے سابق سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کے پوتےگہرام بگٹی کر رہے تھے۔

2005 کے اواخر میں نواب بگٹی کے پہاڑوں میں چلے جانے کے بعد ان کے خاندان اور قبیلے کے افراد ملک کے مختلف حصوں میں بکھر گئے تھے اور ان میں سے کچھ بیرونِ ملک بھی چلے گئے تھے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس دوران 40 سے 50 ہزار افراد بے گھر ہوئے تھے۔

گہرام بگٹی بھی کچھ عرصہ دبئی میں مقیم رہے۔ بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق آٹھ سال بعد جب بگٹی قبیلے کا قافلہ جمعرات کو سندھ کے علاقے کشمور سے بلوچستان کی حددو میں داخل ہوا تو سوئی کے کمشنر قاسم بگٹی نے ان کا استقبال کیا۔

ڈیرہ بگٹی سے بےگھر ہونے والے افراد نے تقریباً تین ماہ سے اسلام آباد میں پارلیمان اور اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا ہوا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ انھیں ان کے آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد کیا جائے۔

انتظامیہ کا موقف تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں عسکریت پسندی کی وجہ سے حالات اس قابل نہیں کہ یہ لوگ وہاں آباد ہو سکیں۔

اس دھرنے کے دوران گل شیر نامی ایک مظاہرہ کار بیمار ہو کر ہلاک ہو گیا تھا اور اب اس کی لاش بھی تدفین کے لیے قافلے کے ہمراہ واپس ڈیرہ بگٹی لائی گئی ہے۔

ادھر بلوچستان حکومت کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہے، اور یہ لوگ پاکستان کے شہری ہیں، اس لیے جہاں چاہیں وہاں جا کر آباد ہو سکتے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کی مقامی قبیلوں کے ساتھ دشمنیاں ہیں اور حکومت کا موقف یہ تھا کہ ان کو پہلے ان قبیلوں کے ساتھ معاملات طے کر لینے چاہییں تاکہ ان کی واپسی کے بعد امن و امان کا مسئلہ نہ پیدا ہو۔

بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے وضاحت کی کہ گہرام بگٹی کی حکومت سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور وہ اپنی صوابدید پر واپس ڈیرہ بگٹی گئے ہیں۔

اسی بارے میں