پشاور:فائرنگ سے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار زخمی

Image caption پشاور میں سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے فرنٹیئر ریزرو پولیس کے ڈپٹی کمانڈنٹ گل ولی خان زخمی جبکہ ان کے ڈرائیور اور محافظ ہلاک ہوگئے ہیں۔

گل بہار پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گل ولی خان جمعرات کی صبح اپنے گھر سے دفتر جا رہے تھے کہ گلبہار کے علاقے میں انعم صنم چوک کے قریب ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔

اہلکار کے مطابق دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے ڈپٹی کمانڈنٹ کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گئے جبکہ ان کے ایک محافظ اور ڈرائیور ہلاک ہو گئے۔

پولیس اہل کار نے مزید کہا کہ گل ولی خان کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمانڈنٹ گل ولی خان پولیس ڈیپارٹمنٹ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ اس سے پہلے صوبے کے مختلف اضلاع میں بحیثیت ضلعی پولیس سربراہ کے عہدے پر کام کر چکے ہیں۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمےداری قبول نہیں کی ہے۔

ماضی میں پشاور میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں کو کئی بار نشانہ بنایا گیا لیکن کچھ دنوں سے پولیس افسران کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ماہ پشاور میں فائرنگ کے واقعات میں پولیس کے ایک ڈی ایس پی، دو ایس ایچ او اور انٹیلی جنس بیورو کے ایک انسپکٹر ہلاک ہو چکے ہیں۔

پچھلے ایک ماہ کے دوران شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جس میں مسلح موٹر سائیکل سواروں نے تین پولیس افسران اور حساس ادارے کے ایک افسر کو قتل کیا اور بعد میں فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ مرنے والوں میں ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی، دو ایس ایچ او اور ایک حساس ادارے آئی بی کے انسپکٹر شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ تمام واقعات پشاور شہر کے گنجان آباد علاقوں میں پیش آئے جہاں ان اہلکاروں کے ہمراہ ان کے محافظ بھی تھے لیکن اطلاعات کے مطابق نہ تو ان محافظوں کی طرف سے حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی گئی اور نہ ابھی تک پولیس کی طرف سے کوئی حملہ آور پکڑا گیا ہے۔

اسی بارے میں