پنجاب:خواتین کے خلاف جرائم کا ’ڈیٹا بیس‘

Image caption اس منصوبے کا مقصد خواتین پر تشدد کا خاتمہ بتایا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے اعداد وشمار اور معلومات اکٹھی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر خواتین پر ہونے والے تیزاب حملوں گھریلو اور صنفی تشدد سے متعلق اعداد وشمار اور معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔

پنجاب میں خواتین کی ترقی کے محکمے کی سیکریٹری ارم بخاری کہتی ہیں کہ حکومت نے خواتین کے لیے اصلاحات کا ایک مربوط پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ منصوبہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ جس کے تحت مختلف علاقوں کے ریحنل پولیس افسروں کو یہ خط لکھے گئے ہیں کہ وہ یہ اعدادوشمار اکٹھے کریں۔

’مقصد یہ ہے کہ ہمیں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق رجحانات کا بہتر اندازہ ہو سکے۔ جب ہمیں رجحانات کا معلوم ہو گا تو اس سے ہمیں نئی پالیسیاں بنانے اور پرانی کو بہتر کرنے کا موقعہ ملے گا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ تشدد کے خاتمے کے لیے موجود قوانین میں کہاں جھول ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں سے کوئی بہتری ہوئی بھی یا نہیں۔ یہ اعداوشمار ہمارے لیے کئی طرح سے مددگار ہوں سکیں گے‘۔

خواتین پر ہونے والے تشدد سے متعلق اعدادوشمار کے حصول کے لیے پہلے کوئی بہت مستند ذریعہ موجود نہیں۔ خواتین کے حقوق کے اکثر ادارے یہ معلومات اکٹھی کرنے کے لیے میڈیا میں رپورٹ ہونے والی خبروں پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے کارکن سمجھتے ہیں کہ ان واقعات کی بڑی تعداد تو ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہی نہیں ہو پاتی ۔

پنجاب یونیورسٹی میں صنفی علوم کی اسسٹنٹ پرفیسر ڈاکٹر رعنا ملک سمجھتی ہیں درست اعدادوشمار کا نہ ہونا خواتین کے خلاف جرائم پر قابو پانے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

’خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے پہلی سیڑھی مستند اعدادوشمار کی موجودگی ہے۔ ایسے اعداوشمار جو درست تازہ ترین اور تفصیلی ہوں کہ عورتوں کے خلاف کن علاقوں میں کس نوعیت کے جرائم زیادہ ہیں۔ اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ کس جگہ پر ہمیں کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب اعدادوشمار ہی نامکمل ہوں تو پھر مسئلے حل کے لیے موثر انداز میں کام کیسے ہو سکتا ہے‘۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اس منصوبے کے حوالے سے کئی خدشات رکھتے ہیں۔ عورت فاونڈیشن کی صوبائی رابطہ کار ممتاز مغل کہتی ہیں کہ اعداد وشمار کے حصول کے لیے پولیس پر انحصار کرنا درست حکمت عملی نہیں۔

’ہمارا مطالبہ تو یہ تھا کہ آپ ضلعی سطح پر خواتین کے لیے ہیلپ لائن قائم کریں۔ تو یہ اعدادوشمار خودبخود اکٹھے ہونا شروع ہوجائیں گے۔ لیکن اب چونکہ حکومت اسے پولیس رپورٹ کے زریعے مرتب کرنا چاہ رہی ہے۔ جو ہمارے نزدیک بہتر نہیں ہوگا’۔

اعدادوشمار اکٹھے کرنے کا منصوبہ پنجاب میں خواتین کو بااختیار بنانے کے حکومتی پیکچ کا حصہ ہے۔ خواتین کی ترقی کے محکمے کی سیکریٹری ارم بخاری کہتی ہیں کہ یہ معلومات باقاعدگی سے تمام شراکت داروں سے شئیر کی جائیں گی۔

’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس طرح کا ایک نظام بن جائے جس میں آر پی اووز تین ماہ بعد ہم سے ان معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ ہم ان معلومات کا تجزیہ کریں اور ریکارڈ مرتب کرتے رہیں اور پھر سالانہ بنیادوں پر اسے دوسرے شراکت داروں جیسے خواتین کے حقوق کے ادروں میڈیا اور تحقیقی اداروں سے شئیر کریں‘۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق پولیس کے رویے کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خاص طور پر گھریلو اور نفسیاتی تشدد تو پولیس کے نزدیک جرم کے زمرے میں شامل ہی نہیں۔

عورت فاؤنڈیشن کی ممتاز مغل کے مطابق’گھریلو تشدد کے بہت سے کیس تو پہلے پولیس تک جاتے ہی نہیں۔ اور اگر چلے بھی جائیں تو چونکہ گھریلو تشدد کو جرائم میں شامل ہی نہیں کیا گیا اس لیے پولیس اسے سنجیدگی سے نہیں لیتی اور عموعاً اس پر ایف آئی آر درج نہیں ہو پاتی۔ اس طرح سے خواتین کے خلاف تشدد کی صیح تصویر سامنے نہیں آ سکے گی۔ اور جب تک تصویر مکمل نہیں ہوگی جرائم کے خاتمے کے لیے صحیح منصوبہ بندی بھی نہیں ہو سکے گی‘۔

سرکاری سطح پر یہ منصوبہ شروع کرنے کا مقصد خواتین پر جرائم سے متعلق مستند معلومات حاصل کرنا تھا یعنی ایسے اعدادوشمار ہوں حکومت خود جن کی ملکیت خود لے۔

پولیس کے اعدادوشمار تو پہلے سے موجود ’جینڈر کرائم سیل ’ سے بھی حاصل کی جا سکتے ہیں۔ تاہم خواتین کی ترقی کے محکمے کی سیکریٹری کہتی ہیں کہ ’پولیس کے ذریعے اعدادوشمار مرتب کرنا صرف ایک حل ہے۔ محکمۂ اور بھی ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘۔

سالانہ رپورٹ میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی نوعیت جائے وقوعہ جرم میں شامل افراد کی تعداد سمیت تمام معلومات درج کی جائیں گی۔

اسی بارے میں