چلو پھر سے مسکرائیں

Image caption ایم کیو ایم کی حکمت عملی ایک بار پھر کامیاب رہی ہے

پاکستان میں انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ کو مشورہ دیا تھا کہ اسے خود کو کلیئر کرانا چاہیے۔

ایک نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کے سامنے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ایم کیو ایم اچھی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتی ہے یا اپنے عسکری ونگز کی مدد سے دہشت گردی میں ہی رہنا چاہتی ہے۔

’معاف کیجئےگا میں بات سچ کرتا ہوں پاکستان میں دہشت گردی کی بنیاد اس وقت ڈالی گئی جب ایم کیو ایم نے سیاست میں قدم رکھا، اس سے پہلے کبھی پاکستان میں دہشت گردی والی سیاست نہ تھی اور کراچی کا امن اس وقت خراب ہوا جب کراچی میں ایم کیو ایم کا وجود ہوا۔‘

میاں نواز شریف کی حکومت میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا گیا، جس کے بعد اردو بولنے والی آبادی میں ایم کیو ایم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ایم کیو ایم گزشتہ دو دہائیوں سے اسی آپریشن کو بنیاد بناکر نواز شریف پر تنقید کرتی رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر ان دنوں گردش کرنے والے اس انٹرویو میں نواز شریف نے آپریشن کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے کئی لوگوں کو اس کا احساس نہ تھا لیکن بعد میں باتیں کھلتی چلی گئیں اور اس وقت زیادہ باتیں کھلیں جب وہ وزیر اعظم بنے۔

’ کراچی میں دہشت گردی ہو رہی تھی، حکیم سعید کو قتل کیا گیا جو پاکستان کے انتہائی وفادار انسان تھے تب حکومت نے فیصلہ کرلیا کہ اب ایم کیو ایم کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے۔ ہم نے انہیں کہا کہ آپ کا راستہ ادھر اور ہمارا راستہ ادھر ہے، اپنے آدمی ہمارے حوالے کرو۔ انہوں نے نہیں کیا، ہم نے اپنی حکومت کو ختم کردیا۔‘

ایم کیو ایم کی تنظیمی ویب سائیٹ کے آرکائیوز میں اب بھی کچھ ایسے پیجز موجود ہیں جن پر تحریر ہے کہ نواز شریف کیا چاہتے ہیں؟ اس پیج پر رائے ونڈ محل اور لندن کے فلیٹ سمیت بدعنوانی کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے، کچھ لاشوں اور پولیس کارروائیوں کی تصاویر ہیں جس کے ساتھ یہ تحریر ہے کہ نواز شریف پاکستان سے مہاجروں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ ن نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر تنقید کرنے پر کئی بار ایم کیو ایم کے شدید ردعمل کا سامنا کیا، ایم این اے وسیم احمد کی میڈیا سے بات چیت بھی ریکارڈ پر موجود ہے، جس میں انہوں نے شہباز شریف پر ذاتی نوعیت کے حملے کیے اور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کو ایک مزاحیہ فلمی اداکار سے تشبیہ دی تھی۔

کراچی میں حالیہ انتخابات میں ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور نئی حلقہ بندیاں نہ کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج میں مسلم لیگ ن بھی شریک رہی، رکن اسمبلی عرفان اللہ مروت اور سلیم ضیا بھی ان میں شامل ہیں جو انتخابی دھاندلیوں کی شکایت کرتے ہوئے نظر آئے۔

لیکن متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ن کی قیادت اب یہ سب کچھ بھول کر نئے سیاسی سفر کا آغاز کا ارادہ رکھتی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ہمدردوں نے اپنی توپوں کا رخ دونوں جماعتوں کی طرف کردیا ہے جس میں دونوں کو ماضی کی یاد دلائی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل ہوں یا نہیں؟ متحدہ قومی موومنٹ کے ریفرینڈم کا نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا لیکن مسلم لیگ ن کی غیر مشروط حمایت کرنے کے لیے کارکنوں سے رائے لینا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

اندرون اور بیرون ملک دباؤ کا شکار متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ن کے منجمند تعلقات کی برف اس وقت پگھلی تھی جب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد میاں نواز شریف کو ٹیلی فون کرکے مبارک باد دی تھی اور جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھی ان کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے میاں نواز شریف کی وزرات عظمیٰ کے لیے غیر مشروط حمایت کی اور اب اس حمایت کو صدارتی انتخاب تک لایا گیا ہے، مگر اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی قیادت کو وہ لکشمن ریکھا عبور کرکے نائن زیرو جانا پڑا جو اس نے خود کھینچی تھی۔

مسلم لیگ ن نے متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے، لیکن ایم کیو ایم نے پہلے کراچی میں امن کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جو تقریباً دو دہائیاں قبل اس وقت بگڑا تھا جب دونوں جماعتیں حکومت میں تھیں۔ اس کے بعد بھی بننے والی ہر حکومت کا ایم کیو ایم حصہ رہی۔ کبھی یہ حصہ کم تو کبھی زیادہ رہا لیکن کراچی کا امن بحال نہیں ہوسکا تھا۔

ایم کیو ایم کی حکمت عملی ایک بار پھر کامیاب رہی ہے۔ اس نے انتخابات کے بعد خاموشی اختیار کر لی تھی اور صدارتی انتخاب کا انتظار کیا جب اس کی اہمیت میں اضافہ ہونا تھا اور وہ آخر حکومت کی ضرورت بن گئی۔ سندھ کی گورنر شپ ہو یا قیادت کو بحران سے نکالنا، بازی دوبارہ اس کے ہاتھ میں آجائےگی۔

اسی بارے میں