کوئٹہ: افغان قونصل خانے کے اہلکار لاپتہ

Image caption آج آئی جی پولیس نے اہلکار کا پتہ لگانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے : کوئٹہ میں افغان قونصل جنرل حاجی غلام محمد

کوئٹہ میں پولیس نے افغانستان کے قونصل خانے کے لاپتہ ہونے والے افغانی اہلکار کی گمشدگی کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے اہلکار محمد ہاشم قونصل خانے میں پاسپورٹ سیکشن کے انچارج تھے۔

ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ان کے بیٹے صدیق اللہ نے درج کرائی ہے۔

کوئٹہ: ایک ہفتے میں دوسرا سرکاری افسر اغواء

ایف آئی آر کے مطابق 23 جولائی کو محمد ہاشم سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع اپنے گھر سے گاڑی میں دفتر کے لیے نکلے تھے لیکن نہ وہ دفتر پہنچے اور نہ ہی اس کے بعد سے ان کا اپنے اہلخانہ یا قونصل خانے میں کسی سے رابطہ ہوا ہے۔

وہ گذشتہ دس سال سے کوئٹہ شہر کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں قیام پذیر تھے۔

ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ فیاض سنبل نے میڈیا کو بتایا پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ان کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں متیعن افغان قونصل جنرل حاجی غلام محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد ہاشم قونصل خانے کے پرانا ملازم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں انسپیکٹر جنرل پولیس بلوچستان سے ملاقات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’آج آئی جی پولیس نے اہلکار کا پتہ لگانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ جہاں تک ان کی گمشدگی کے محرکات کی بات ہے اس بارے میں ہمیں پتہ نہیں ہے۔ انہوں کہا کہ میں نے لاپتہ اہلکار کے اہلخانہ سے بھی بات کی ہے اور انہیں بھی تاحال ان کی گمشدگی کے محرکات کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔

کوئٹہ میں افغان قونصل خانہ طویل عر صے سے قائم ہے ۔ یہ قونصل خانہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

افغان قونصل جنرل کے مطابق اس سے قبل کوئٹہ میں افغان قونصل خانے کے کسی اہلکار کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔

اسی بارے میں