کراچی: دو ملزمان کے بلیک وارنٹ جاری

پھانسی کا پھندا
Image caption صدر آصف علی زرداری نے منتخب ہونے کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا تھا

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اغواء اور قتل کے دو ملزمان کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے بلیک وارنٹ جاری کردیے ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج غلام مصطفیٰ میمن نے بھرام خان اور شفقت حسین کو اکیس اور بائیس اگست کو پھانسی دینے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالت نے دونوں مجرموں کے بلیک وارنٹ، سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے لیے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کی مدت پوری ہونے کے بعد جاری کیے ہیں۔ یہ حکم سینٹرل جیل کے سپرنٹینڈنٹ کی درخواست پر جاری کیا گیا ہے۔

سینٹرل جیل کے سپرنٹینڈنٹ نے گزراش کی تھی کہ شفقت حسین گزشتہ دس سالوں اور بھرام خان نو سالوں سے قید ہیں، صدرِ مملکت بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کرچکے ہیں۔

بھرام خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 15 اپریل 2003 کو اپنے ساتھی پیر بخش کی مدد سے سندھ ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں فائرنگ کر کے وکیل محمد اشرف کو قتل کردیا تھا، دونوں ملزموں کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 25 جون 2003 کو انہیں سزائے موت اور پیر بخش کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

مجرم شفقت حسین پر الزام تھا کہ انہوں نے 2004 میں ایک بچے کو تاوان کے لیے اغوا کر کے بعد میں قتل کر دیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے انہیں ستمبر 2004 میں سزائے موت سنائی تھی۔ اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے یہ سزا برقرار رکھی، جبکہ صدر پاکستان نے بھی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے منتخب ہونے کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا تھا۔ ان کے اس فیصلے پر اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

ان سزاؤں پر صدارتی انتخابات کے بیس روز بعد عملدرآمد کیا جائے گا۔

اسی بارے میں