’وفاق کے قیدی ہیں تو وفاقی جیل میں رکھیں‘

Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی پچھلے کئی ماہ سے سنٹرل جیل پشاور میں پابند سلاسل ہیں

پاکستان کی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی اداروں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور سے باہر کسی اور جیل منتقل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔

جیل خانہ جات کے امور کے لیے وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر ملک قاسم خان خٹک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی وفاقی حکومت کے قیدی ہیں لہذا انہیں یہاں سے فوری طورپر وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے کسی جیل میں بھیجا جائے۔

جاسوس یا پیادہ ؟

شکیل آفریدی کی سزا پر چند سوالات

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی ایک ہائی پروفائل ملزم ہیں جن کی سکیورٹی پر صوبائی حکومت گزشتہ کئی ماہ سے بھاری رقم خرچ کر رہی ہے جبکہ جیل کے اندر انہیں تحفظ فراہم کرنا بھی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔

ان کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی پر جیل کے اندر حملہ بھی ہوسکتا ہے اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ انہیں یہاں سے کہیں اور بھیجا جائے تاکہ صوبائی حکومت ان کی ذمہ داری سے آزاد ہو جائے۔

ملک قاسم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پہلے بھی شکیل آفریدی کو پشاور سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست کر چکی ہے لیکن بظاہر لگتا ہے ابھی تک اس درخواست پر غور نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثناء ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے اپنے موکل سے جیل میں ملاقات کی درخواست دے رہے ہیں لیکن حکام کی طرف سے انہیں اجازت نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ وہ آٹھ ماہ پہلے اپنے موکل سے جیل میں ملے تھے لیکن اس کے بعد سے نہ تو ان کو اجازت دی گئی اور نہ بھائیوں اور بیوی بچوں کو ڈاکٹر شکیل سے ملنے دیا گیا ہے۔

ادھر حالیہ دنوں میں مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ مجرموں کے تبادلے کا دو طرفہ معاہدہ کر لیا جائے جس کے تحت امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے اور پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دے۔

اس کے علاوہ تین دن پہلے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو علاقائی تصفیے موجود ہیں جن کو اگر اکٹھا کیا جائے تو ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے تبادلے پر بات جیت کی جاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پچھلے کئی ماہ سے سنٹرل جیل پشاور میں پابند سلاسل ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں مقیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ہیپائیٹس سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی ایک جعلی مہم چلائی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت کی جانب سے تیس سال قید کی سزا سُنائی گئی تھی اور انہوں نے اس سزا کے خلاف کمشنر پشاور کی عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس پر فیصلہ انتیس اگست کو سنایا جائے گا۔

اسی بارے میں