ڈی آئی خان جیل حملہ: 27 پولیس اہلکار معطل

Image caption حملے کے بعد ٹانک میں لگایا گیا کرفیو بدستور نافذ ہے، جب کہ ڈی آئی خان میں کچھ دیر کے لیے کرفیو میں نرمی کر دی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سینٹرل جیل پر حملے کے بعد فوراً کارروائی نہ کرنے پر ایلیٹ فورس کے افسران سمیت 27 دوسرے پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق یہ اقدام صوبائی آئی جی پولیس خیبر پختونخوا نے متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی طرف سے جیل پر حملے کے بعد فوراً ردِ عمل ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت یہ صحیح طور پر واضح نہیں کر سکی کہ حملہ آوروں کی تعداد کیا تھی، وہ کس طرف سے آئے، حملہ کر کے قیدیوں کو کیسے آزاد کیا اور کس راستے سے جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ڈی آئی خان جیل پر حملہ، طالبان 243 قیدی چھڑا لے گئے

ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملہ: تصاویر میں

بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں پر حملوں میں مماثلت

ایک سرکاری ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور جیل کے مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے اور انھیں جیل کے اندر نقل و حرکت کرنے میں کوئی مشکلات پیش نہیں آئیں۔

یاد رہے کہ مسلح پسندوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سینٹرل جیل پر پیر کی رات کو حملہ کر کے 243 قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا جن میں 30 انتہائی خطرناک قیدی بھی شامل تھے۔

اس واقعے کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ تھانہ چھاؤنی ڈیرہ اسماعیل خان میں درج کر دی گئی ہے۔

حملے کے بعد ٹانک میں لگایا گیا کرفیو بدستور نافذ ہے، جب کہ ڈی آئی خان میں کچھ دیر کے لیے کرفیو میں نرمی کر دی گئی ہے، اور ڈی آئی خان کی طرف جانے والی چار اہم شاہراہیں بدستور بند ہیں۔

Image caption ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور جیل کے مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے اور انھیں جیل کے اندر نقل و حرکت کرنے میں کوئی مشکلات پیش نہیں آئیں

ان شاہرہوں میں ڈیرہ بنوں روڈ، ڈیرہ ٹانک روڈ، ڈیرہ چشمہ روڈ ا ور دربن روڈ شامل ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملے میں چھ اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے کمشنر مشتاق جدون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’شدت پسندوں کے حملوں کے باعث کُل 243 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران 14 قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے۔‘

کمشنر مشتاق جدون نے بتایا تھا کہ حملے کے باعث جیل سے فرار ہونے والوں قیدیوں میں سے 30 قیدی انتہائی خطرناک قیدی تھے۔ انہوں نے کہا تھا ان میں سے کوئی بھی دوبارہ گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سینٹرل جیل پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اس حملے میں اپنے دو سو کے قریب ساتھیوں کو رہا کرا لیا ہے۔

اس سے قبل سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے مطابق ڈی آئی خان سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ جیل میں کُل 483 قیدی تھے جن میں سے 243 فرار ہو گئے ہیں۔

کمشنر مشتاق جدون کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے لاؤڈ سپیکروں پر اپنے ساتھیوں کے نام پکارے۔ مقامی افراد کے مطابق طالبان نے لاؤڈ سپیکروں پر ’اللہ اکبر‘ اور ’طالبان زندہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے۔

گذشتہ سال اپریل میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی سینٹرل جیل پر طالبان نے حملہ کر کے 384 قیدیوں کو رہا کروا لیاتھا۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں زیادہ تر طالبان شدت پسند تھے۔

پاکستان میں 89 جیلیں ہیں جن میں سے 65 جیلوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ حساس قرار دی جانے والی جیلیں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں واقع ہیں۔

گذشتہ سال شدت پسندوں کی جانب سے ممکنہ حملوں سے متعلق بی بی سی کو موصول ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور شدت پسندی کے مختلف مقدمات میں گرفتار ہونے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے جیلوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

ان اطلاعات کے بعد پاکستان فوج نے جیلوں پر شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے جیل کے عملے کو کمانڈو تربیت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں