امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اسلام آباد پہنچ گئے

Image caption نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ کسی بھی بڑے امریکی عہدے دار کا پہلا دورِ پاکستان ہو گا

امریکی وزیرِ خارجہ جان بدھ کی شام تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ وزیر اعظم پاکستان، صدر اور بّری فوج کے سربراہ سے ملاقات کریں گے۔

ان کے دورے کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات بہتر بنانے اور اہم علاقائی امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

جان کیری کا دورۂ پاکستان: سٹریٹیجک امور پر مذاکرات

پاکستان کے ساتھ شدت پسندی پر تعاون جاری رے گا: امریکہ

امید کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں خاص طور پر پاکستان میں جاری توانائی کے بحران پر مذاکرات کریں گے۔

اس سے پہلے پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزازاحمد چوہدری نےگزشتہ اتوار کو بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ کونومبر 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا جسے دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اعزازاحمد چوہدری نے کہا تھا کہ اگرجان کیری کے دورے کے دوران سٹریٹیجک ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا تو وہ فوری طور پر ان ورکنگ گروپس کی ملاقاتیں کرائیں گے۔

پاکستان نےگزشتہ برس 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ائر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ کااقتدار میں آنے کے بعد یہ کسی بھی بڑے امریکی عہدے دار کا پہلا دورِ پاکستان ہو گا۔

جان کیری کے دورۂ اسلام اباد کے موقع پر افغان میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر بھی بات چیت ہو گی۔

پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کوششوں میں کردار ادا کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کابل کے اپنے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر افغان رہنما چاہیں تو پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں