’اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بحران یہ خاموشی ہے‘

Image caption جان کیری کا کہنا تھا ’تمام پاکستانی خود سے پوچھیں کہ شدت پسندوں نے عوام کے لیے کتنے پل بنانے کی بات کی ہے، کتنے سکول بنانے کی دعوت دی ہے، کتنے تونائی پلان یا معاشی منصوبے پیش کیے ہیں‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہء پاکستان اور ملک کی نو منتخب حکومت سے پہلی علیک سلیک میں کیا ہوا، کیا نہیں ہوا، کچھ پلے پڑا؟ میں نے بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ آئیے دیکھتے ہیں کامیاب ہوا یا نہیں۔

جب سے صحافت شروع کی سنتا، پڑھتا اور لکھتا آیا ہوں کہ پاکستان سیاسی، معاشی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہے۔ اس دوران سات عام انتخابات، ایک فوجی بغاوت اور متعدد حکومتیں دیکھیں۔ تھوڑی بہت تبدیلی دیکھی لیکن بہت کچھ جوں کا توں رہا۔

مثلاً ہر آنے والی حکومت نے ملک کے معاشی بحران کو ملکی تاریخ کا بدترین بحران قرار دیتے ہوئے جانے والی حکومت کو کوسنے دیے اور ہر جانے والی حکومت نے اپنی معاشی کارکردگی کا چرچا کیا۔ معیشت کے میدان میں ہر کسی نے گھمسان کی انقلابی نعرے بازی کی لیکن انقلاب کے منتظر عوام کا حال ہمیشہ سعادت حسن منٹو کے منگو کوچوان جیسا رہا۔

لیکن ایسا نہیں کہ کچھ بدلا نہیں۔ آزادیء اظہار پر پابندی کا ہتھیار ریاست کے ہاتھوں سے نکل کر مذہبی اور لسانی گروہوں کے ہتھے آیا اور یوں پہلے سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوا۔ پھر بھی اس دوران درجنوں پرائیویٹ نیوز چینل پیدا ہوئے، پروان چڑھے، کچھ بے راہ رو ہو گئے لیکن کچھ صحافت کے فرمانبردار بھی رہے۔

ریاستی اداروں میں تناؤ جو ہماری زیادہ تر تاریخ میں تو عسکری اور سیاسی قیادت میں رسہ کشی تک محدود تھا، رفتہ رفتہ گھٹتا بڑھتا ہر ادارے کو نگل گیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ عدلیہ سیاست میں کودی اور فوج بدنام ہوئی لیکن عوام نے اپنی انتخابی قوت کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔ اور جب ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب حکومت نے ایک منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا تو کیا ہم سب کو خوشی نہ ہوئی؟ کیا نو منتخب حکومت نے آتے ہی بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک نئی انرجی پالیسی نہ پیش کی؟ ایسے میں ایک نئے آغاز کی بات کرنا اور پاکستان کی سیاسی قیادت سے امیدیں وابستہ کرنا کیا غلط ہے؟

میرے تقریباً سبھی دوست اور جاننے والے اس سے متفق ہیں کہ ملک میں ہونے والے حالیہ سیاسی واقعات بڑے خوش آئیند ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کا کہنا ہے کہ نہ جانے کیوں ڈیرہ اسمٰعیل خان کی جیل بریک نے سارا مزہ کِرکِرا کر دیا۔ اس لیے نہیں کہ طالبان کا ایک لشکر دندناتا ہوا ایک شہر میں گھسا، جیل توڑی، روح افزا پیا اور اپنے سینکڑوں ساتھی چھڑا کے لے گیا۔ طالبان اگر یہ زحمت نہ بھی کرتے تو شاید ان میں سے زیادہ تر قیدی گواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد خود ہی رہا ہو جاتے۔

مزہ نو منتخب حکومت کی خاموشی نے خراب کیا۔ کوئی کچھ تو کہتا۔ وزیر داخلہ اتنا ہی کہہ دیتے کہ میں کیا کروں۔ لیکن ایسے خاموش رہنا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کیا اس سے اُن دنوں کی یاد نہیں آتی جب افغانستان میں جنرل ضیاء کا پھیلایا ہوا فساد پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہا تھا لیکن کوئی اس کی بات نہیں کرتا تھا۔ اس وقت اس طرح کے شر کی جانب اشارہ کرنے پر ریاست مارتی تھی، اب لشکر مارتے ہیں، لیکن کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان کی جیل بریک کے معاملے پر موجودہ حکومت کی خاموشی میں بالکل ویسا ہی خوف گونجتا ہے جیسا اس وقت کے سیاسی ورکر کے دل کو دہلاتا تھا؟

Image caption ڈیرہ اسمٰعیل خان میں طالبان کا ایک لشکر دندناتا ہوا آیا، جیل توڑی، روح افزا پیا اور اپنے سینکڑوں ساتھی چھڑا کے لے گیا۔

ان ساری باتوں کا جان کیری سے کیا واسطہ؟ پاکستان نے کہا کہ ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں، جان کیری نے جواباً کہا ’سوال یہ ہے کہ کیا چند شدت پسندوں کو پاکستان کی اعتدال پسند اکثریت پر حاوی ہونے دیا جائے گا؟ میں تمام پاکستانیوں کو کہتا ہوں کہ وہ خود سے پوچھیں کہ شدت پسندوں نے اس ملک کے عوام کے لیے کتنے پل بنانے کی بات کی ہے، کتنے سکول بنانے کی دعوت دی ہے، کتنے تونائی پلان یا معاشی منصوبے پیش کیے ہیں۔ میرے خیال میں جواب واضح ہے۔‘

میرے بھی خیال میں جواب واضح ہے۔ خاموشی۔ جان کیری کے لیے یہ کہنا شاید قدرے مشکل ہوتا اگر پاکستان انہیں یقین دلا سکتا کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس نہ صرف صلاحیت ہے بلکہ وہ سیاسی عزم بھی ہے جس سے لیس امریکہ برسوں سے پاکستانی سر زمین پر تابڑ توڑ ڈرون حملے کرتا آرہا ہے اور اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک پائی۔

پاکستان کی خاموشی میں جو حقیقت چیخ رہی ہے وہ یہ ہے کہ پل یا سکول موجودہ حالات میں کسی مسئلے کا حل نہیں کیونکہ انہیں بنانے میں تو سالوں لگتے ہیں لیکن بموں سے اڑانے میں چند لمحے اور انہیں اڑانے والے تو درجنوں گاڑیوں میں سوار اسلحے اور لاؤڈ سپیکروں سے لیس آتے ہیں لیکن انہیں روکنے والے خاموش رہتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بحران یہ خاموشی ہے اور جب بھی جہاں بھی صاحب اقتدار یوں خاموش ہو جائیں اس خاموشی میں ڈرون حملوں کی گھن گرج کے علاوہ آپ کو اور کیا سنائی دے گا؟

اسی بارے میں