بارش اور سیلاب سے ’ہلاکتوں کی تعداد 36 ہوگئی‘

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے یعنی این ڈی ایم اے کے ترجمان برگیڈیئر کامران ضیا نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ اور سنیچر کو ملک بھر میں بارشوں اور سیلابوں میں انتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دریائے سوات میں سیلاب، پُلوں کو نقصان

چترال میں سیلابی ریلوں سے مکانات، پُل تباہ

انہوں نے کہا کہ بارہ افراد جمعہ کو جبکہ سنیچر کو سترہ افراد ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

سندھ

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق کراچی میں شدید بارشوں کے باعث کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ بہت سے افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

شہر کی مختلف سڑکیں بارش کے پانی سے بھر گئی ہیں جس سے ٹریفک معطل ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ اندرونِ سندھ کے مختلف شہروں میں بھی شدید بارش ہوئی ہے۔ حیدرآباد کے مختلف حصوں میں شدید بارش سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

حیدرآباد شہر کے تقریباً تمام نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔

سرکاری ریڈیو نے خبر دی ہے کہ پاکستانی بحریہ نے کراچی میں بارش سے متاثرہ نشیبی علاقوں میں ہنگامی طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

بحریہ نے جلبانی ٹاؤن اور گڈاب ٹاؤن کے علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کر دیے ہیں۔

خیبر پختونخوا

Image caption دو روز سے جاری بارشوں میں صوبے میں ہلاک ہونے والے افراد کی کُل تعداد چار ہو گئی ہے

این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سنیچر ایک فرد ہلاک جبکہ دو افراد لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لکی مروت میں سیلابی ریلے میں ایک شخص بہہ گیا۔ اس کے علاقہ چارسدہ اور پشاور میں دو افراد لاپتہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دو روز سے جاری بارشوں میں صوبے میں ہلاک ہونے والے افراد کی کُل تعداد چار ہو گئی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق خیبر ایجنسی میں گذشتہ روز شدید بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلے سے پشاور کے علاقے بڈھنی کے مقام پر شہری آبادی بری طرح متاثر ہوئی۔ سیلابی ریلوں کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا تھا اور پشاور میں چارسدہ روڈ ٹریفک کے لیے بند ہو گیا تھا ۔

بارشوں کی وجہ سے پشاور کے مختلف مقامات پر چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے لیکن سرکاری سطح پر صرف تین افراد کے ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

سیلابی ریلوں سے حیات آباد اور ریگی کے علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔گذشتہ رات شہر کے مختلف حصوں سے تقریباً ڈیڑھ سو افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ متعدد مکانات کو نقصان پھہنچا ہے ۔ پشاور میں ریگی کے مقام پر ایک شخص کی لاش ملی ہے جس کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی۔

ادھر لکی مروت میں دریائے گمبیلا میں سیلابی ریلے آنے سے ایک بچہ بہہ گیا۔

قبائلی علاقے

این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق وفاق کے زیر انتظم قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں بارش اور سیلابی ریلوں میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں بارشوں سے ٹانک میں بھی مختلف مقامات پر سیلابی ریلے آئے ہیں۔ سیلابی ریلوں کے باعث پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب شمالی وزیرستان میں بھی بارشوں کے باعث ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

چترال

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان بریگیڈیئر کامران کے مطابق چترال میں پانچ افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تین روز سے جاری بارشوں سے سیلابی ریلے اور ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے پینے کے پانی کی ترسیل کا نظام تباہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق چترال ٹاؤن کے قریب جو غور میں گذشتہ رات چار بچے قریب واقع چشموں سے پینے کا پانی لینے گئے تھے لیکن جب وہ واپس آ رہے تھے تو اس وقت اچانک سیلابی ریلہ آیا جس میں تین بچے بہہ گئے جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔

حکام کا کہنا ہے بچوں میں دو بہنیں اور دو لڑکے مقامی علاقے سے تھے جن کی عمریں آٹھ سے دس سال تک بتائی گئی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ایک بچے کی لاش مل گئی ہے جبکہ باقی دو بچوں کی تلاش جاری ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اپر چترال میں ریشون کے مقام پر دو چرواہے سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔

بلوچستان

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بات بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات قمر مسعود نے ڈائریکٹر پراونشل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عطاء اللہ مینگل کے ہمراہ ہفتے کی شب پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتائی۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب سے بلوچستان کے چار اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن میں جھل مگسی،لورلائی،حب اور خضدارکے کچھ علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اضلاع میں سیلاب سے ستائیس دیہاتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اطلاع کر دی گئی ہے اور صوبائی حکومت نقصانات پر قابو پانے کے لیے تمام تر وسائل بروکار لا رہی ہے۔

صوبائی حکام نے کہا کہ ہلاکتیں سب سے زیادہ ضلع لسبیلہ کے علاقے حب میں ہوئیں جہاں ایک مکان کی چھت گرنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک جھل مگسی میں سیلاب سے متاثرہ 25سو خاندانوں کیلے امدادی سامان اور سات سو ٹینٹ روانہ کر دیے گئے ہیں جبکہ اسی طرح لورالائی کے پانچ سو خاندانوں کے خیمے اور امدادی سامان بھیج دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے این ڈی ایم اے کے مطابق لورالائی کے علاقے میں ایک گاڑی نالے میں پھنس گئی تھی جس میں تین افراد سوار تھے۔ ریسکیو حکام دو افراد کو بچانے میں کامیاب رہے۔

ضلع جھل مگسی میں دس گھنٹے سے زائد بارش کے باعث گنداوہ اور بعض دیگر علاقوں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ حکام نے ندی نالوں میں طغیانی کے بعد ہنگامی حالات نافذ کردی ہے اور ضلعی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں مقیم لوگوں کو وہاں سے نکل جانے کا کہا ہے۔

جھل مگسی کے ڈپٹی کمشنر طارق الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع کی دو تحصیلوں جھل مگسی اور گندھاوا میں کم سے کم آٹھ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں کتنے لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

ضلع سبی میں سیلابی پانی سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے بعض علاقوں میں کچھے مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پنجاب

سرکاری ریڈیو سٹیشن ریڈیو پاکستان کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے علاقے لوندی سیداں میں پانچ افراد سیلابی ریلے میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

تاہم این ڈی ایم کے ترجمان نے کہا کہ ان کو اس واقعے کی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق صوبہ پنجاب کے علاقے راجن پور میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں شدید بارشوں کے بعد برساتی نالوں میں طغیانی آئی ہے اور کم سے کم دو برساتی نالوں میں پانی کی سطح پچاس ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔

راجن پور میں نالوں میں طغیانی کی وجہ سے بعض علاقوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں