بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتیں 60 ہو گئیں

پاکستان بھر میں شدید بارشوں کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 تک پہنچ گئی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے چار دنوں میں مزید تیز بارشیں متوقع ہیں۔

مرنے والوں میں نصف کا تعلق کراچی سے ہے، جہاں غریب علاقوں میں مکان زیرِ آب آ کر منہدم ہو گئے ہیں۔ کئی لوگ بجلی کے جھٹکے لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں جب کہ بچے سیلابی پانی میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے ہیں۔ ایک عورت، اس کا بچہ اور ایک بھانجی دیوار کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے۔

خیبر پختون خوا کے دور دراز علاقوں میں طوفانی ریلے آئے ہیں۔ مکان گر گئے ہیں اور دریاؤں میں طغیانی ہے۔

کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں بحریہ کے دستے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں، تاہم حکومت کو اپنی امدادی کوششیں مربوط کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔

جانی نقصان کے علاوہ بہت سے علاقوں میں کھڑی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

دریائے سوات میں سیلاب، پُلوں کو نقصان

چترال میں سیلابی ریلوں سے مکانات، پُل تباہ

سندھ

کراچی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق شہر میں بارش نے عام معمولات زندگی کو مفلوج بنادیا ہے، سنیچر کی صبح شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا۔

کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے شہر میں شدید بارش کے بعد ایمرجنسی کا نفاذ کردیا، محکمہ نکاسی اور فراہمی آب کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے فوکل پرسن نور محمد چوہان کا کہنا ہے کہ ادارے کی پمپنگ سٹیشن عام حالات میں کام کرنے کے لیے ہیں بارش میں یہ اسٹیشن غیر فعال ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’ ہم بارش رکنے کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بعد پانی کی نکاسی کی جائے گی۔‘

ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، دادو، قمبر، کندھ کوٹ گھوٹکی، شکارپور اور بدین میں بھی شدید بارش سے شہری ،اور دیہی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے یعنی این ڈی ایم اے کے ترجمان برگیڈیئر کامران ضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اب تک آٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق خیبر ایجنسی میں گذشتہ روز شدید بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلے سے پشاور کے علاقے بڈھنی کے مقام پر شہری آبادی بری طرح متاثر ہوئی۔ سیلابی ریلوں کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا تھا اور پشاور میں چارسدہ روڈ ٹریفک کے لیے بند ہو گیا تھا ۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مرکزی کنٹرول روم نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب آنے کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

قبائلی علاقے

این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق اب تک وفاق کے زیر انتظم قبائلی علاقوں میں بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص تاحال لاپتہ ہے۔

گزشتہ روز این ڈی ایم کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کُرم ایجنسی میں بارش اور سیلابی ریلوں میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ جنوبی وزیرستان میں سیلابی ریلوں کے باعث پانچ افراد ہلاک ہوئے اور شمالی وزیرستان میں بھی بارشوں کے باعث ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

چترال

بریگیڈیئر کامران کے مطابق چترال میں پانچ افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تین روز سے جاری بارشوں سے سیلابی ریلے اور ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے پینے کے پانی کی ترسیل کا نظام تباہ ہوا ہے۔

بلوچستان

این ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ بلوچستان میں اب تک چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےمرکزی کنٹرول روم کے مینیجر سیف الرحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ان کے دفتر کی جانب سے امدادی سامان سے بھرے پندرہ ٹرک متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔

ان میں سے دس ٹرک جھل مگسی اور پانچ لورالائی کی جانب روانہ کیے گئے ہیں جن میں خیمے، مچھروں سے بچنے کے لیے مچھر دانیاں اور کھانے پینے کی اشیا شامل ہیں۔

پنجاب

پنجاب کے وزیرِاعلیٰ راجن پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے متاثرین کی امداد کے لیے پانچ کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ خیمے، خوراک اور ادویات اس علاقے میں پہنچا دیے گئے ہیں۔

این ڈی ایم کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 12 ہے۔

صوبے کے جنوبی علاقے رود کوہیوں میں شدید سیلابی ریلوں کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں