’بارشوں میں 58 ہلاک، 245 دیہات متاثر‘

Image caption قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث چھیاسٹھ ہزار تین سو افراد بے گھر ہوئے ہیں

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث اٹھاون افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو سو پینتالیس یہات متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے چار دنوں میں مزید تیز بارشیں متوقع ہیں۔

ادارے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد اٹھاون ہے جن میں سے پندرہ افراد پنجاب، دس خیبر پختونخوا، آٹھ سندھ، بارہ بلوچستان، قبائلی علاقوں میں بارہ جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

این ڈی ایم کے کے مطابق دو سو پینتالیس دیہات متاثر ہوئے ہیں جن میں سےدو سو بیالیس دیہات صوبہ پنجاب میں ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ترسٹھ ہزار تین سو افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد میں سے چھیاسٹھ ہزار صوبہ پنجاب میں ہیں۔

این ڈی ایم کے مطابق متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے پندرہ کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ان کیمپوں میں سے گیارہ کیمپ پنجاب اور چار کیمپ سندھ میں قائم کیے گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے بقول بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کوئی کیمپ قائم نہیں کیا گیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں پندرہ دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ تین سو چھتیس افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

دریائے سوات میں سیلاب، پُلوں کو نقصان

چترال میں سیلابی ریلوں سے مکانات، پُل تباہ

بلوچستان

بلوچستان کے علاقے خضدار اور تربت میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مزید چار افراد کی ہلاکت کے بعد مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔

یہ بات قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر پلاننگ عبدالطیف کاکڑ نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کارروائی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں ایک ہزار مزید خوراک کے پیکٹس کے علاوہ سات سو خیمے بھیجے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں زمینی رابطے منقطع ہوئے ہیں وہاں متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لیے دو ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال امداد نہیں ملی۔ تربت سے ایک سماجی کارکن عبدالمجید دشتی نے بتایا کہ ندی نالوں میں طغیانی کے باعث کراچی سے آنے اور جانے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے، ان مسافروں کو امداد کی فراہمی اور انھیں محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے تاحال مناسب انتظامات نہیں کیے گئے۔

ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےمرکزی کنٹرول روم کے مینیجر سیف الرحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ان کے دفتر کی جانب سے امدادی سامان سے بھرے پندرہ ٹرک متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔

ان میں سے دس ٹرک جھل مگسی اور پانچ لورالائی کی جانب روانہ کیے گئے ہیں جن میں خیمے، مچھروں سے بچنے کے لیے مچھر دانیاں اور کھانے پینے کی اشیا شامل ہیں۔

خیبر پختونخواہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں بارشوں اور سیلاب سے تین دنوں میں سینکڑوں ماکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

پشاور چترال، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سب سےزیادہ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

پشاور میں حکومت کی جانب سے امدادی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ پشاور میں چارسدہ روڈ پر نشاط مل کے علاقے میں کوئی ایک سو سے زائد مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

نشاط مل کے ایک متاثرہ شخص محمد زاہد شاہ کے مطابق حکومت کی جانب سے آج چار روز گزر جانے کے باوجود کوئی امداد نہیں ملی۔

انھوں نے کہا کہ علاقے میں بجلی نہیں ہے اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں سیلاب سے پشاور چترال، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں سب سے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں جہاں تین روز میں سینکٹروں مکانات کے علاوہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے ۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا یہ حقیقت ہے کہ نشاط مل میں توجہ دینے میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اب وہاں توجہ دی گئی ہے اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ادھر پیر کو پشاور میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر اور صوبائی وزراء نے سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔

خیال رہے کہ چار روز بعد یہ پہلا موقع تھا کہ وفاقی اور صوبائی وزراء پشاور میں سیلاب سے متاثرہ کسی علاقے کے دورے پر آئے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے یعنی این ڈی ایم اے کے ترجمان برگیڈیئر کامران ضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اب تک آٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار کے مطابق خیبر ایجنسی میں گذشتہ روز شدید بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلے سے پشاور کے علاقے بڈھنی کے مقام پر شہری آبادی بری طرح متاثر ہوئی۔ سیلابی ریلا کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا تھا اور پشاور میں چارسدہ روڈ ٹریفک کے لیے بند ہو گیا تھا۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مرکزی کنٹرول روم نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب آنے کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

سندھ

کراچی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق شہر میں بارش نے عام معمولات زندگی کو مفلوج بنادیا ہے، سنیچر کی صبح شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، دادو، قمبر، کندھ کوٹ گھوٹکی، شکارپور اور بدین میں بھی شدید بارش سے شہری ،اور دیہی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

پنجاب

پنجاب کے وزیرِاعلیٰ راجن پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے متاثرین کی امداد کے لیے پانچ کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ خیمے، خوراک اور ادویات اس علاقے میں پہنچا دیے گئے ہیں۔

این ڈی ایم کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد بارہ ہے۔

صوبے کے جنوبی علاقے رود کوہیوں میں شدید سیلابی ریلوں کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقے

این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق اب تک وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص تاحال لاپتہ ہے۔

گزشتہ روز این ڈی ایم کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کُرم ایجنسی میں بارش اور سیلابی ریلوں میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ جنوبی وزیرستان میں سیلابی ریلوں کے باعث پانچ افراد ہلاک ہوئے اور شمالی وزیرستان میں بھی بارشوں کے باعث ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

چترال

بریگیڈیئر کامران کے مطابق چترال میں پانچ افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تین روز سے جاری بارشوں سے سیلابی ریلے اور ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے پینے کے پانی کی ترسیل کا نظام تباہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں