کراچی: فٹبال گراؤنڈ میں دھماکہ، گیارہ ہلاک

  • 7 اگست 2013
Image caption دھماکے کے وقت پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر بھی سٹیڈیم میں موجود تھے

کراچی کے علاقے لیاری کے ایک فٹبال گراؤنڈ میں میچ کے اختتام پر ایک زور دھماکہ ہوا ہے جس میں گیارہ نوجوان ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بتایا ہے کہ دہشتگردی کے اس واقعے میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے ایک وزیر نشانے پر تھے۔

’پیپلز پارٹی کے وزیر نشانے پر تھے‘

شرجیل میمن نے بی بی سی کی نمائندہ سارہ حسن کو بتایا کہ صوبائی وزیر جاوید ناگوری اس فٹبال میچ میں مہمان خصوصی تھے اورمیچ کے اختتام پر انعامات کی تقسیم کے بعد جب وہ اپنی گاڑی کی جانب جا رہے تھے تو ان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے صوبائی وزیر کی گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن وزیر حملے میں بال بال بچ گئے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ اس دھماکے میں گیارہ نوجوان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بیس زخمی ہوئے جن کا مختلف ہسپتالوں میں علاج ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا پورے ملک میں دہشتگردی ہو رہی ہے اور لیاری بھی اس سے بچا ہوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا دہشتگردی پاکستان کے لیے ایک انتہائی بڑا خطرہ ہے جسے ملکر نمٹنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل کراچی کے مختلف علاقوں میں کم شدت کے تین دھماکے ہوئے۔ پہلے دو دھماکے کلفٹن اور ڈیفنس میں شراب کی دوکانوں کے باہر ہوئے جبکہ تیسرا دھماکہ گلشن اقبال کے موتی محل علاقے کے ایک گیراج میں ہوا۔

دھماکوں کے وقت شراب کی دکانیں بند تھیں۔ ان دھماکوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی بارے میں