’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اسہال کے مریضوں میں اضافہ‘

پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عالمی طبی امدادی تنظیم امدادی میڈیسن ساں فرنٹئر کے کارکن اسہال کے مریضوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔

طبی امدادی تنظیم میڈیسن ساں فرنٹئر یا ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں محض ہنگو میں تین سو سے زائد افراد اسہال کی شکایت کے سامنے آئے۔ یہاں ایسی شکایات کے روزانہ تقریبا انیس مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، میڈیسن ساں فرنٹئر کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اس نے ہنگو، کراچی اور کرم ایجنسی میں عارضی طبی امدادی مراکز قائم کر دییے ہیں۔

تنظیم کے مطابق کرم میں اس ماہ دو سو پینتیس مریضوں کا علاج کیا گیا جن میں سے سات فیصد بچے ہیں۔

تاہم سب سے زیادہ تعداد یعنی چھ سو مریض اس سال گیارہ جون سے کراچی میں سامنے آئے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث ہلاک ہونے والی افراد کی تعداد اسی تک پہنچ گئی ہے اور تین سو تینتیس دیہات بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

منگل کو این ڈی ایم اے کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد اسّی ہے جن میں سے پندرہ افراد پنجاب، دس خیبر پختونخوا، بائیس سندھ، اٹھارہ بلوچستان، قبائلی علاقوں میں بارہ جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث اکاسّی ہزار تین سو اکتالیس افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد میں سے چھیاسٹھ ہزار پانچ کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

اسی بارے میں