بان گی مون کی ثالثی کی پیشکش

Image caption بان گی مون دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے ہیں

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کریں اور کہا ہے کہ اگر فریقین انہیں ثالث بنانے پر اتفاق کریں تو وہ اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بان گی مون اپنی اہلیہ اور اقوامِ متحدہ کے سینیئر حکام کے ہمراہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر پیر کی شب اسلام آباد پہنچے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پاکستان روانگی سے قبل ایک انٹرویو میں بان گی مون کا کہنا تھا کہ وہ اس(کشمیر) کے تنازع میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسردہ ہیں تاہم انہوں نے اس تنازع کے حل کے لیے فریقین کی جانب سے مذاکراتی عمل کو حوصلہ افزاء قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ مذاکراتی عمل کے پرزور حمایت اور خیرمقدم کرتے ہیں۔

اے پی پی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں ممالک کی معاونت سے متعلق سوال پر بان گی مون نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ بطور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر فریقین سمجھتے ہیں کہ یہ مفید ثابت ہو سکتا ہے تو میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

ادھر پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق بان گی مون دورۂ پاکستان کے دوران وزیرِ اعظم نواز شریف، قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے ملاقات کریں گے۔

بیان کے مطابق اپنے دورے میں بان گی مون پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے سے دی جانے والی بریفنگ میں بھی شرکت کریں گے۔

بیان کے مطابق بان گی اسلام آباد میں چودہ اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر ہونے والی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہوں گے۔

یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد بان گی مون اسلام آباد میں واقع نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کریں گے اور وہاں سینٹر آف انٹرنیشنل پیس اینڈ سٹیبیلٹی کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

اسی بارے میں