حامد کرزئی کا دورۂ پاکستان

افغانستان سے عید کے دوران ایک اچھی خبر یہ آئی کہ صدر حامد کرزئی پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس خبر کو مزید تقویت حامد کرزئی اور ان کے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری کے درمیان عید کے موقع پر ٹیلی فون کے ذریعے تبادلۂ خیال ہونے سے ملی۔

مبصرین کے خیال میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان برف اگر پگھلی نہیں تو اس کے پگھلنے کا آغاز ضرور ہو چکا ہے۔

افغان سفارتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حامد کرزئی ’اب تک بطور صدرپاکستان کے پندرہ سولہ دورے کرچکے ہیں اور مزید دورے صرف اس صورت میں کریں گے جب انہیں کسی اہم پیش رفت کی توقع ہو۔‘ ورنہ خیال تھا کہ اس ماہ میں اگر یہ دورہ نہیں ہو پاتا تو پھر اس کی کوئی امید نہیں۔

اس کی بڑی وجہ صدر کرزئی کا آئندہ سال اپریل میں صدارتی انتخابات کی مصروفیات میں شامل ہونا اور دیگر مصروفیات ہیں۔ صدر کرزئی نے آخری دورۂ پاکستان تقریباً ڈیڑھ سال پہلے کیا تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امورِ خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز کے گزشتہ دنوں دورۂ کابل سے اس برف کے پگھلنے کے عمل کا آغاز شروع ہوا تھا۔ لیکن دورے کے فوراً بعد افغان اہلکاروں نے کہا تھا کہ صدر کرزئی محض دورہ کرنے کے اس وقت تک خواہاں نہیں ہیں جب تک اس دورے سے افغانستان میں امن کی کوششوں میں کسی پیش رفت کی امید نہ ہو۔

اب دورے کی تصدیق سے لگتا ہے کہ پاکستان افغان صدر کو قائل کرنے یا کسی قسم کی ضمانت دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس یقین دہانی کی شکل و صورت دورے کے قریب آنے پر ہی واضح ہوسکے گی۔

افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے تازہ بیان میں اس بابت کچھ اشارے دیے ہیں۔ ایک اہلکار کے بقول ان کی خواہش ہے کہ طالبان اپنا قطر کا رابطہ دفتر ترکی یا سعودی عرب منتقل کر دیں تاہم ساتھ میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے شکایت کر دی کہ وہ اس بارے میں مخلصانہ کوشش نہیں کر رہا ہے۔

اس بیان سے واضح ہے کہ افغان حکام کو آج بھی مکمل یقین ہے کہ پاکستان طالبان پر کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ اس کے خیال میں اگر اسلام آباد امریکہ کے ساتھ ان کے روابط قطر میں استوار کروانے میں کامیاب ہوسکتا ہے تو کرزئی حکومت کے ساتھ بھی کروا سکتا ہے۔ لیکن بات پاکستان کی نہیں، بات ہے طالبان کی جو پہلے روز سے اس بات پر کھڑے ہیں کہ کرزئی حکومت سے کوئی بات نہیں ہوگی۔

انہوں نے اس ضن میں آج تک کوئی لچک نہیں دکھائی ہے۔ ملا محمد عمر کے عید پر آنے والے تازہ بیان میں بھی انہوں نے پھر واضح کر دیا کہ ان کا کرزئی حکومت کی جانب نرمی دکھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

گذشتہ دنوں افغان ذرائع کے ذریعے ایسی خبریں چلوائی گئیں کہ افغان حکومت اور طالبان میں رابطے ہوئے ہیں لیکن طالبان نے ان کی سختی سے تردید کر دی۔ اب شاید پاکستان اس بابت طالبان کو کسی انتہائی محدود انداز میں سہی لیکن شاید قائل کیا ہو جو کرزئی نے دورے کی ہامی بھری ہے۔

افغان حکومت پاکستان سے رابطوں کے علاوہ طالبان قیدیوں کی رہائی جن میں سرفہرست ملا برادر ہیں، اور دونوں ممالک کے سرکردہ علما کی کانفرنس منعقد کروانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ شاید پاکستان کے دورے کے موقع پر اس میں بھی کچھ پیش رفت دکھائی دے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط بھی کرسکتے ہیں۔

یہ دورہ آئندہ برس افغان صدارتی انتخابات اور غیرملکی افواج کے انخلا سے پہلے انتہائی اہم دورہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ امن کی جانب پیش رفت ان انتخابات کے انعقاد اور فوجیوں کے انخلا کے بعد امن کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم اس دورے کی ناکامی سے یہ دونوں کھٹائی میں پڑ جائیں گے۔ صورت حال اس حد تک بگڑنے کا بھی خدشہ ہے کہ شاید صدارتی انتخابات ہی منعقد نہ کروائے جاسکیں۔ طالبان کے امیر ملا محمد عمر نے پہلے ہی اپنے عید کے پیغام میں افغانوں کو انتخابات میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

اسلام آباد میں سفارتی حلقوں میں امید کی جا رہی ہے کہ صدر کرزئی کا دورہ افغانستان کے مسئلے کے حل میں اہم پیش رفت کا باعث بنے گا۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری بھی ماضی کو دیکھتے ہوئے وقتی ہوگی، اور مشکل مسائل کے حل کی راہ میں حائل اونچ نیچ مکمل طور پر شاید کبھی نہ ختم ہوسکے۔