ایل او سی فائرنگ، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی

انڈین بارڈر فورس کے اہلکار (فائل فوٹو)
Image caption پی ٹی وی کے مطابق بھارتی فوج نے تین سیکٹروں میں ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کی

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کو پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر مبینہ طور پر بھارتی فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے واقعے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک شہری کی ہلاکت کا یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے بارہ بجے پیش آیا تھا۔

ایک مقامی شخص محمد سالک نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کا نام محمد زبیر ہے جس کا تعلق ڈونگہ گھمیر سے بتایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ سے محمد زبیر کے گھر میں بچے بھی زخمی ہوئے۔

اس واقعے ہر پاکستانی دفتر خارجہ نے پیر کی سہ پہر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور بھارت کی سرحدی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی شہری کی ہلاکت پر احتجاج کیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ 2003 میں کیے جانے والے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تعمیری، بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق لائن آف کنٹرول پر مبینہ طور پر بھارت کی طرف سے فائرنگ کے خلاف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے اور مظفر آباد میں احتجاجی جلوس نکالا گیا جس کی سربراہی پاکستانی کشمیر کے وزیرِاعظم چوہدری عبدالمجید نے کی۔

مظاہرین نے مظفر آباد میں پاکستان اور بھارت کے لیے اقوامِ متحدہ کے ملٹری مبصرین کے دفتر تک مارچ کیا اور ’بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی‘ کے حوالے سے یادداشت جمع کرائی۔

اس سے پہلے پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کی جانب سے سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کے الزامات عائد کیے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے اتوار کو الزام عائد کیا تھا کہ بھارت کی فوج نے کشمیر کے متنازع علاقے اور صوبہ پنجاب میں سیالکوٹ سیکٹر میں سرحدی چوکی پر فائرنگ کی ہے جس کے جواب میں دونوں افواج کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کو انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ پاکستانی رینجرز نے جموں سے چالیس کلومیٹر جنوب میں کناچک کے مقام پر اس کی چوکی پر فائرنگ کی جس میں بی ایس ایف کا ایک اہکار زخمی ہوگیا تھا۔

انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ دوسری بار ایک بین الاقوامی سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کا واقعہ ہے۔‘

پاکستان کے عسکری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے سیالکوٹ سیکٹر میں ہیڈ مرالا کے علاقے میں رینجرز کی ایک چوکی پر بلااشتعال فائرنگ کی۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ’وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔‘

پاکستان کے عسکری ذرائع نے بتایا تھا کہ’ پاکستان میں سیالکوٹ سیکٹر میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی فوج نے کشمیر کے متنازع علاقے میں کوٹلی کے قریب لائن آف کنٹرول پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کی۔‘

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ اتوار کی صبح سیالکوٹ سیکٹر میں انڈین بارڈر فورس نے پاکستانی رینجرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر رینجرز نے مزاحمت کی اور ذمے داری سے جواب دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لائن آف کنٹرول پر فائر بندی پر عمل کرنا ضروری ہے۔‘

اس سے قبل بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ منگل کو جموں میں لائن آف کنٹرول کے قریب اس کے پانچ فوجیوں کو ہلاک کرنے والے حملے میں پاکستانی فوجی ملوث تھے اور یہ کہ ’اس واقعے کے مضمرات پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظر آئیں گے‘۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔

اسی بارے میں