’ڈرون کے حوالے سے قوانین کی پابندی ہونی چاہیے‘

Image caption بان گی مون نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ڈرون کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی پابندی ہونی چاہیے اور ڈرون کو صرف معلومات اکٹھی کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق بان کی مون نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سینٹر آف انٹرنیشنل پیس اینڈ سٹیبیلٹی کی افتتاحی تقریب کے دوران اپنی خطاب میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ’جیسا کہ میں اکثر اور مسلسل کہتا رہا ہوں کہ مسلح ڈرون کا استعمال دوسرے ہتھیاروں کی طرح بین الاقوامی قوانین کے تحت ہونا چاہیے۔ یہ اقوامِ متحدہ کی بہت ہی واضح پوزیشن ہے۔‘

انھوں نے اقوامِ متحدہ کے عالمی مشنز میں پاکستانی فوج کے کردار کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے ہر دس اہلکاروں میں ایک پاکستانی ہے۔

بان کی مون نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کو نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام میں شدید کشیدگی کی وجہ سے پرامن حل تلاش کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

اس موقعے پر پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیرِاعظم پاکستان کے مشیر سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔

اس سے پہلے بان کی مون اور سرتاج عزیز کے درمیان ملاقات کے دوران پاک بھارت لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پر بات چیت ہوئی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ملاقات میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی منصوبوں، عالم امن فوج میں پاکستان کے کردار اور بھارت و پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدہ صورتِ حال پر غور ہوا۔

بان کی مون کی ثالثی کی پیشکش

منگل کو ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی اور پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی بھی شریک ہوئے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملاقات کے بعد بان کی مون نے اسلام آباد میں واقع نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا دورے کے دوران وہاں سینٹر آف انٹرنیشنل پیس اینڈ سٹیبیلٹی کا سنگِ بنیاد رکھا۔

یاد رہے کہ بان کی مون نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔

بان کی مون اپنی اہلیہ اور اقوامِ متحدہ کے سینیئر حکام کے ہمراہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر پیر کی شب اسلام آباد پہنچے تھے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت پر ’کشمیر کے دیرینہ تنازع‘ کو حل کرنے پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر فریقین انہیں ثالث بنانے پر اتفاق کریں تو وہ اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پیر کو پاکستان روانگی سے قبل ایک انٹرویو میں بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ اس (کشمیر) کے تنازعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسردہ ہیں تاہم انہوں نے اس تنازع کے حل کے لیے فریقین کی جانب سے مذاکراتی عمل کو حوصلہ افزا قرار دیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ مذاکراتی عمل کی پر زور حمایت اور خیرمقدم کرتے ہیں۔

اے پی پی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں ممالک کی معاونت سے متعلق سوال پر بان کی مون نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں وہ بطور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر فریقین سمجھتے ہیں کہ یہ مفید ثابت ہو سکتا ہے تو میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

ادھر پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق بان کی مون دورۂ پاکستان کے دوران وزیرِ اعظم نواز شریف، قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

بیان کے مطابق اپنے دورے میں بان کی مون پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے سے دی جانے والی بریفنگ میں بھی شرکت کریں گے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ بان کی مون اسلام آباد میں چودہ اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر ہونے والی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہوں گے۔

اسی بارے میں