پھانسی کی سزا پر طالبان کی دھمکی

Image caption ماضی میں طالبان نے مسلم لیگ کے خلاف شدت پسندانہ کارروائیوں سے اجتناب کیا تھا

تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پنجاب اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کو خبر دار کیا ہے کہ اگر ان کے چار ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تو پنجاب حکومت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بتایا کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو ان کے تین ساتھیوں سمیت فیصل آباد منتقل کیاگیا ہے جہاں رواں ماہ انھیں پھانسی دی جائے گی۔

عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا بنیادی تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے اور انھیں اکتوبر سنہ 2009 میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائینڈ یعنی سرغنہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت آٹھ ہزار کے قریب افراد کو سزائے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ برسوں سے کال کوٹھریوں میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ سزائے موت کی سزا پانے والے میں سے چھ ہزار کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سنہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ تک صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔ ان دونوں افراد کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ کی حکومت کے قائم ہونے کے بعد پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا۔

سزائے موت پر عملدرآمد کیا جائے گا: وفاقی حکومت

’سزا کا خوف بہت ضروری ہے‘

مذاکرات کے لیے آپریشن بند کریں: طالبان

طالبان ترجمان کے مطابق حکومت کا یہ اقدام اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا جس کے بعد تحریکِ طالبان اس کے خلاف کارروائیاں شروع کر دے گی۔

طالبان ترجمان کے مطابق لشکر جھنگوی کے متعدد کارکن تحریکِ طالبان میں شامل ہوئے ہیں اور تحریک کے جھنڈے تلے کام کر رہے ہیں۔

حکومت پنجاب اور حکمران جماعت مسلم لیگ کو تحریک طالبان کی جانب سے حالیہ دھمکی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب طالبان نے ایک بار پھر حکومت سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

طالبان ترجمان کے مطابق وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن ملک میں امن کی خواہاں ہے لیکن پاکستان کی فوج اور اسٹیبلشمنٹ انھیں طالبان کے خلاف جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں