جیل حملہ: صحیح انکوائری یا محض کاغذی کارروائی؟

Image caption حملہ آوروں نے جیل میں بجلی کے نظام کو تباہ کر دیا تھا اور خود اندھیرے میں دیکھنے والے آلات استعمال کرتے رہے

ڈیرہ اسماعیل خان جیل حملے کی انکوائری آئندہ چند روز مکمل کر لی جائے گی جس میں حملے کے حقائق جاننے اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ذمہ داریوں میں کہاں کہاں غفلت برتی گئی ہے جس کی وجہ سے شدت پسند اپنے عزائم میں کامیاب ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے یہ انکوائری کمیٹی جیل پر حملے کے ایک روز بعد قائم کر دی تھی اور اس کمیٹی نے پندرہ روز میں اپنی مکمل رپورٹ حکومت کو پیش کرنی ہے۔ یہ کمیٹی سینیئر رکن بورڈ آف ریوینیو وقار ایوب، محکمہ داخلہ میں سپیشل سیکرٹری سیدعالمگیر شاہ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سپیشل برانچ اختر علی شاہ اور پشاور میں فوج کے ایک رکن پر مشتمل ہے۔

یہ کمیٹی جیل پر حملے اور قیدیوں کے فرار کے بارے میں حقائق جاننے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ یہ تعین بھی کرے گی کہ کس جگہ اور کہاں غفلت برتی گئی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر مال علی امین گنڈہ پور نے کہا ہے کہ انکوائری کمیٹی چند روز میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دے گی جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ ماضی کی طرح نہیں ہوگی بلکہ اس مرتبہ انکوائری رپورٹ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے مقامی مقامی لوگوں کے مطابق شدت پسندوں نے 29 اور 30 جولائی کی درمیانی شب 11 بجکر 11 منٹ پر سنٹرل جیل کے چاروں اطراف سے حملہ کیا تھا۔ حملہ آوروں نے جیل کے داخلی گیٹ کے ساتھ ٹاؤن ہال میں اپنی گاڑیاں کھڑی کیں جب کہ ایک گروپ جیل کے اندر کارروائی کرتا رہا اور باقی حملہ آور جیل کے باہر سڑکوں پر مسلسل فائرنگ اور دھماکے کرتے رہے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے چار مختلف قسم کے دھماکہ خیز مواد سے بنے بم اور بارودی سرنگیں استعمال کی تھیں۔ یہ کارروائی رات کوئی دو بجکر بیس منٹ تک جاری رہی اور اس دوران شدت پسندوں کو کہیں کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ لگ بھگ دس انتہائی اہم قیدیوں کو جیل میں داخل ہوتے ہی فوراً فرار کرا لیا گیا تھا جب کہ باقی قیدی بعد میں باہر نکلتے رہے۔ اس کارروائی کے دوران چار شیعہ قیدیوں کو نشاندہی کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ داخلی راستے پر تعینات چار پولیس اہلکاروں کو اس واقعے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے جیل میں بجلی کے نظام کو تباہ کر دیا تھا اور خود اندھیرے میں دیکھنے والے آلات استعمال کرتے رہے۔

ذرائع نے بتایا ہےکہ جیل پر حملہ کرنے والوں میں خود کش حملہ آور بھی تھے لیکن کہیں کوئی مزاحمت نہ ہونے پر ان کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حملے سے متعدد سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں کہ اس سارے حملے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کا کردار کیا رہا ہے، ناکے اور چوکیاں کتنی موثر رہی ہیں اور دو روز پہلے اطلاع مل جانے کے باوجود کتنی موثر جوابی کارروائی کی گئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صرف چند اہلکاروں کو معطل یا گرفتار کرنے سے ایسے حملے نہیں روکے جا سکتے بلکہ اس کے لیے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کی کارروائیاں آئندہ نہ کی جا سکیں۔

اسی بارے میں