جیل ایک تربیت گاہ

سیاسی بحث کا ایک منظر: سیٹھ ہارون، شبیر شر، عبدالرحیم بلوچ، اور کمال وارثی نمایاں نظر آرہے ہیں۔
Image caption سیاسی بحث کا ایک منظر: سیٹھ ہارون، شبیر شر، عبدالرحیم بلوچ، اور کمال وارثی نمایاں نظر آرہے ہیں۔

جیل بڑی تربیت گاہ ہے۔ لینن سے لے کر جواہر لال نہرو تک، گرامچی سے نیلسن منڈیلا تک، فیض سے لے کر شیخ ایاز تک سب نے دوران اسیری بہت کچھ سیکھا اور شاہکار چیزیں لکھیں۔ جیل وہ جگہ ہے جہاں باشعور لوگوں کو اپنی غلطیوں پر نظر ڈالنے کا بھی بھرپور موقع ملتا ہے۔

انیس سو اسی کے عشرے میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ملک بھر میں تحریک چلائی گئی لیکن اس کا عروج سندھ میں نظر آیا جس نے اس صوبے کا تشخص ہی بدل دیا۔ ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے رضاکارانہ گرفتاریوں کی اس تحریک میں تقریباً پندرہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جس میں لیڈر اور کیڈر دونوں شامل تھے۔ان سیاسی قیدیوں کو صوبے کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ سات ہزار قیدیوں کی گنجائش والے جیلوں میں اس تحریک کے اسیران کی آمد کے بعد گنجائش سے تین گنا زیادہ قیدی ہوگئے تھے۔’جیل بھرو‘ تحریک میں واقعی جیلیں بھر گئیں۔

اتنی بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کو قابو میں رکھنا، وہ بھی تب جب باہر تحریک زوروں پر ہو انتظامیہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ نتیجے میں جیلوں کے اندر جلسے اور جلوس ہوتے رہے۔ ایم آر ڈی تحریک کی وجہ سے تو جیلوں میں میلہ لگ گیا۔

گرفتار شدگان میں ایم آر ڈی اتحاد میں شامل نو جماعتوں کے علاوہ چار دوسری چھوٹی بڑی جماعتوں کے کارکنان بھی شامل تھے۔

Image caption وکلا کا گروپ قانونی نکات سمجھا رہا ہے: (بائیں سے) سہیل سانگی، ضیا اعوان وکیل، سید رشید رضوی، اختر حسین ایڈووکیٹ، اور پروفیسر جمال نقوی۔

قید کاٹنے والے جانتے ہیں کہ قیدی اگر جیل کو نہیں کاٹے گا تو جیل اس کو کاٹ دے گی۔ یعنی جیل میں خود کو سرگرم اور متحرک نہ رکھا جائے تو انسان ذہنی طور پر ماؤف ہو جائے گا۔ ایم آر ڈی کے قیدیوں نے اسی پر عمل کیا اور اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

جیل کے اندر سرگرمیوں نے کارکنوں کی تربیت کی۔ انہیں دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں اور کارکنوں سے تبادلہ خیال کرنے کا موقعہ ملا جس سے ان کارکنوں کی ایک دوسرے سے یکجہتی بڑھی۔ یہ وہ تبادلہ خیال تھا جس سے عام طور پر سیاسی کارکن، سیاسی اور نظریاتی طور پر محروم رہتے ہیں لیکن جیل نے انہیں یہ موقعہ فراہم کر دیا۔ آج سیاسی جماعتوں میں جو ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔

جیل سیاسی بحث انفرادی و اجتماعی مطالعے کے ساتھ ساتھ ادبی اور ثقافتی سرگرمیو ں کے بھی مرکز بن گئے۔ یکجہتی اور سیاسی برداشت کا یہ عالم تھا کہ جیل کی چاردیواری میں جو بھی سیاسی تقریب ہوتی تھی اس کی صدارت پریزیڈیم کرتا تھا، جس میں ہر پارٹی کا نمائندہ لیا جاتا تھا۔

ایم آر ڈی کی کال پر سات ستمبر کو صوبے بھر کی جیلوں میں تمام سیاسی قیدیوں نے بھوک ہڑتال کی۔ جیل میں بھوک ہڑتال کی کال ایک اچھا شگون تھا۔ اس سے باہر کی جدوجہد کو مدد ملی اور قیدیوں کو بھی احساس دلایا کہ گرفتاری دینے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی۔

Image caption اختر حسین ایڈووکیٹ، عبدالحفیظ لاکھو، سہیل سانگی اور بدر ابڑو وکلا کے وراڈ میں ایک خوشگوار موڈ میں

کراچی سینٹرل جیل میں کمیونسٹ کیس کے اسیروں نے ’باہیوں بیراگین جوں‘ (صحرا گردوں کی آگ) کے نام سے ایک سٹیج ڈرامہ بھی کیا۔ یہ ڈرامہ اس کیس کے اسیر اور ادیب بدر ابڑو کی کہانی پر بنایا گیا تھا جس کو بدر اور شبیر شر نے ڈرامائی شکل دی تھی۔ ڈرامے کی کہانی کچھ اس طرح تھی کہ ایک عام گھر کا نوجوان کس طرح گرفتار ہو جاتا ہے اور اس کے بعد کس طرح ایک عام خاندان سیاسی خاندان بن جاتا ہے۔ نوجوان اذیت گاہ میں خود کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اپنے اندر چھپی ہوئی قوت جس سے وہ خود بھی بے خبر تھا، اس کے زور پر اذیت گاہ کی صورتحال سے باہر نکل آتا ہے۔ پہلے وہ ڈر رہا ہوتا ہے لیکن پھر سوچتا ہے کہ اچھا میں ایسا بھی کر گیا۔

اس ڈرامے نے اسیروں پر گہرا اثر چھوڑا۔ اگلے ہفتے ٹھٹہ کے کچھ قیدیوں کو مارشل لا عدالت میں پیش کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ اگر معافی نامہ لکھ کر دیں تو انہیں رہا کر دیا جائے گا، ورنہ سزا دی جائے گی۔ ان اسیروں نے ڈرامے کے ڈائلاگ دہرائے کہ ’میجر صاحب! اب فیصلہ تم نہیں اس ملک کے عوام کریں گے۔‘

جیل نے بے پناہ ادب بھی پیدا کیا۔ ایم آر ڈی کے اسیروں میں سے کئی ایک نے جس میں، بدر ابڑو، اعجاز خواجہ، مولابخش چانڈیو، ڈاکٹر مولابخش جونیجو، شبیر شر، مولانا نعمانی سمیت ایک درجن سے زائد لوگوں نے جیل ڈائری لکھی جس میں جیل کے حالات اور واقعات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

دورانِ اسیری بہت سے لوگوں نے کچھ نہ کچھ لکھا لیکن بدر ابڑو نے بڑے پیمانے پر اپنی ’ادبیات‘ جاری رکھیں۔ اور اس وجہ سے دوستوں کی طرف سے انہیں ’آدمِ بیزاری‘ کا خطاب بھی ملا لیکن انہوں نے تین کتابیں لکھ ڈالیں۔ ان میں ایک ادبی تنقید کے نظریے، جیل ڈائری اور کہانیوں کا مجموعہ شامل ہے۔

Image caption سینٹرل جیل کے احاطے میں قائم ایک فوجی عدالت میں پیشی کے موقعے پر جام ساقی کیس کے ملزمان کی لی گئی تصویر

صحافیوں کے ساتھ ادیب بھی بحالئی جمہوریت تحریک کا حصہ بنے۔ جیل میں ادیبوں کا بھی گروپ موجود تھا، جہاں سندھی ادبی سنگت کراچی سینٹرل جیل برانچ قائم کی گئی اور ہر ہفتے ادبی کلاس اور اجلاس ہونے لگے جہاں ادیب اور شاعر اپنی تخلیقات پیش کرتے تھے اور شرکاء اس پر تنقیدی رائے دیتے تھے۔ ان ادبی کلاسوں میں گرم جوشی سے حصہ لینے والوں میں بدر ابڑو، ڈاکٹر مولابخش جونیجو، پیپلز پارٹی کے کوڑل شاہ، اسماعیل اداسی، عطا دل، کمال وارثی، بدر ابڑو، سہیل سانگی، محمد خان سولنگی شامل تھے۔اس طرح کی سرگرمیاں حیدرآباد اور سکھر جیل میں بھی جاری رہیں۔

سیاسی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے طور پر شہداء، سیاسی، جمہوری اور ترقی پسند جدوجہد کرنے والوں کے دن بھی منائے گئے۔ فیض احمد فیض، نذیر عباسی، حسن ناصر اور دیگر شخصیات کے دن منائے گئے جن میں تقاریر ہی نہیں بلکہ باضابطہ مقالے پڑھے جاتے تھے۔کراچی جیل میں چیدہ چیدہ رہنماؤں پروفیسر جمال نقوی، پیپلز پارٹی کے پروفیسر این ڈی خان، اور قومی محاذ آزادی کے اقبال حیدر کے ساتھ الگ الگ شامیں بھی منائی گئیں۔

کمیونسٹ روایتی طور پر سٹڈی سرکل چلاتے تھے جس میں بعض دیگر پارٹیوں کے کارکنان بھی شریک ہونے لگے۔ ان کے دیکھا دیکھی پیپلز پارٹی، عوامی تحریک اور قومی محاذ آزادی کے رہنما بھی سیاسی کلاسز چلانے لگے۔

جیل میں بعض لوگوں کا رول پِدرانہ ہوتا تھا اور وہ سیاسی قیدیوں کے مسائل اور ان کی سہولیات کے لیے جیل انتظامیہ سے لڑتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے بزرگ سیاستدان قاضی محمد بخش دھامراہ حیدرآباد جیل میں تھے وہاں وہ بابائے جیل تھے۔ انہیں کئی سو اسیروں کے ساتھ کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا اور وہ وہاں بھی بابائے جیل تھے۔ پیپلز پارٹی کے ولی محمد لاسی کراچی کے نوجوانوں کے لیے پِدرانہ شخصیت تھے۔ کیمونسٹ گروپ میں امر لال تھے جن کو دوست مذاق میں انچارج امورِ خارجہ کہتے تھے۔

وکلاء نے مارشل لاء کے نئے ضابطوں کے تحت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اختیارات کم کرنے کے خلاف تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ممتاز قانون دان عبدالحفیظ لاکھو، اختر حسین، فاروق نائیک (جو پی پی پی دور میں سینیٹر اور وزیر قانون بنے)، رشید رضوی (بعد میں سندھ ہائی کورٹ کے جج بنے)، ضیا اعوان، عبدالمالک اور دیگر گرفتار ہوئے۔ حفیظ لاکھو کا مخصوص جملہ ہوتا تھا کہ ’ہم وکلاءنے پہل کر دی ہے اب سیاستداں اپنا فرض نبھائیں‘۔

ممتاز بھٹو ابھی پیپلز پارٹی میں ہی تھے۔ ان کا رہن سہن الگ تھلگ ہوتا تھا۔ ان کو اے کلاس دے کر دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا تھا۔

صورتحال کیا بن رہی ہے، آئندہ کا کیا لائحہ عمل ہے؟ ہر قیدی کو اس سوال کے جواب کی تلاش تھی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما محمد حسین دھنجی دن بھر مختلف وارڈوں کے چکر لگاتے تھے اور وہاں مختلف لیڈروں کے ملاقاتیوں سے ملنے والی ’نئی تازہ‘ جمع کرتے تھے کہ اب لائن کیا ہے۔ شام کو جیل بند ہونے پر سب بڑے اشتیاق سے ایک ہی لفظ میں پوچھتے تھے کہ: ’آئی؟‘ اور ان کا بھی ایک ہی لفظ میں جواب ہوتا تھا کہ ’نہیں آئی‘۔ مطلب، لائن نہیں آئی۔

پیار علی الانا، فتحیاب علی خان، این ڈی خان، اور جمال نقوی جیسے لوگوں کی جیل میں موجودگی سے ماحول کچھ دانشورانہ بن گیا تھا۔ وہ عموماً سیاسی اور فلسفانہ نکات اور ماضی پر بھی بات کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے دانشورانہ سرگرمی بڑھی۔ اس طرح سے تربیت کے ساتھ ساتھ تفریح ہونے لگی۔

امداد چانڈیو، شیر محمد مگریو اور محمد خان سولنگی پر مشتمل ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اسیروں کے گروپ کی آواز بہت سریلی تھی۔ وہ خاص طور پر انقلابی گیت، فیض اور ایاز کی شاعری اچھی گاتے تھے۔ جیل کی ہر تقریب پر وہ انقلابی گیت سناتے تھے اور محفل کو گرماتے تھے۔ ان کے گیتوں کا قیدیوں پر بڑا مثبت اثر پڑتا تھا۔ ایک نیا جذبہ نیا ولولہ پیدا ہوتا تھا۔

مطلب جس کے پاس جو صلاحیت تھی اس کا وہ اظہار بھی کر رہا تھا اور استعمال بھی۔

سینٹرل جیل کراچی میں مارشل لا کے تحت سزا یافتہ ایک قیدی کا کیس بہت دلچسپ تھا۔ اس نے کھٹمل مارنے کا ایک ’آلہ‘ تیار کیا تھا اور اخبارات میں اشتہار دیا کہ ضرورت مند بذریعہ وی پی پی منگوا سکتے ہیں۔ کسی فوجی افسر کی بیوی نے بھی یہ ’آلہ‘ منگوایا۔ جب اس نے کھولا تو چھوٹے سے لفافے میں ایک چمٹی اور ایک چھوٹا سا ہتھوڑا برآمد ہوا اور اس کے ساتھ کاغذ پر چھپی ہوئی ترکیب استعمال لکھی تھی کہ ’چمٹی سے کھٹمل پکڑو اور ہتھوڑے سے اس کو مارو‘۔ اس پر دھوکہ دہی کا کیس بنایا گیا تھا۔ ملزم کا استدلال تھا کہ اس کا درجہ سائنسدان کے برابر ہے کیونکہ اس نے ایک انوکھا آلہ ایجاد کیا ہے۔

تحریک کے آگے پل باندھنے کے لیے جنرل ضیا نے کئی اقدامات کیے۔ ان میں سے ایک یہ بھی کیا کہ تحریک کے آغاز سے دو روز پہلے ایک آئینی حکم نامے کے ذریعے نیا آئینی ڈھانچہ دیا۔ اس آئینی ڈھانچے کا مذاق اڑانے کے لیے کمزور قیدیوں کو ضیا الحق کا ڈھانچہ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔

سوویت یونین کے صدر بریزنف ا اور بعد میں آندرے پوف کا انتقال ہوا تو سیاسی اسیروں نے جیل میں موجود کمیونسٹوں سے آکر تعزیت کی۔ اور کمیونسٹوں نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے تعزیتیں وصول کیں جیسے ان کا کوئی سگا مرگیا ہو۔

ایم آر ڈی تحریک کے دوران کمیونسٹوں کی پوزیشن مسلمہ ہوگئی۔ جیل میں آل پارٹیز کا قیام عمل میں آیا جس میں کمیونسٹوں کو بطور پارٹی نمائندگی دی گئی۔ کمیونسٹوں نے خصوصی فوجی عدالت میں سیاسی بیانات قلمبند کرائے تھے جس پر ان کی پذیرائی ہوئی اور فوٹو کاپیاں تقسیم ہونے لگیں۔ اس پر پیپلز پارٹی کے دوست مذاق کے طور پر کہتے تھے کہ ’اس کام پر تم لوگوں کو سزا ہوگئی پھر بھی باز نہیں آتے، یہاں بھی وہی پمفلٹ بازی کر رہے ہو‘۔

Image caption ممتاز بھٹو کے ساتھ وارڈ 19 میں (بائیں جانب سے): ولی محمد لاسی، پی پی کے ایک کارکن، ممتاز بھٹو، مولانا احترام الحق تھانوی، اور شبیر شر

تحریک جب کچھ ٹھنڈی پڑنے لگی تو دو گروپ واضح طور پر سامنے آئے۔ ان میں ایک وہ جو کارکنوں کا تھا، جو ’آخری فتح‘ تک جدوجہد جاری رکھنے کی بات کرتے تھے۔ دوسرا گروپ حکومت سے مذاکرات کے خیال کو فروغ دے رہا تھا۔ اس گروپ کو ’اسپتال وارڈ گروپ‘ کا نام دیا گیا۔ کارکنوں کے غصے کا یہ عالم تھا کہ سینٹرل جیل کراچی کا وہ سپیشل وارڈ جہاں ممتاز بھٹو اور غلام مصطفیٰ جتوئی کے علاوہ ایم آر ڈی کے دیگر مرکزی رہنما قید تھے وہاں کارکن جانا بھی پسند نہیں کر رہے تھے۔

بدر ابڑو نے اس صورتحال کو اپنی جیل ڈائری میں بہت ہی جامع الفاظ میں بیان کیا ہے:

جیلوں میں تین سال تک تھا۔ لیکن ایسی تبدیلی نہیں دیکھی۔ آنکھوں کو یقین نہیں آتا۔ایسی رونق پہلے نہیں دیکھی۔ جب عوام کی تحریکیں شدت اختیار کرتی ہیں تب جیل بڑے خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ سیاسی قیدیوں کے لشکر پہنچ گئے ہیں۔ ہمارے بند وارڈوں کے دروازے کھل گئے جیسے اندرون سندھ کے قیدیوں نے ہمیں آکر آزاد کرایا ہو۔ چاروں طرف نعرے ہیں جلسے، تقاریر، جلوس، تبادلہ خیال، اور بلند حوصلے۔اب یہ جیل نہیں نوجوانوں کا میلہ ہے۔ ہر طرف ہلچل ہے۔