اسلام آباد: دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی

Image caption پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان انتخابات کے نتائج کو تحفظات کے ساتھ تسلیم کیا ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات اور انتخابی اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے جس کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی حمایت کردی ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ ایوان میں حزبِ اختلاف کی ایک جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے حالیہ انتخابات میں دھاندلیوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے جس کی تحقیقات ہونا ضروری ہیں۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان انتخابات کے نتائج کو تحفظات کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ جماعت قومی اسمبلی کے صرف چار حلقوں میں انگھوٹوں کے نشان کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی جانچ پڑتال کا تقاضا کر رہی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حزبِ اقتدار اور حزب مخالف کی طرف سے بیس بیس حلقوں کی نشاندہی کی جائے جس میں اُن کے بقول دھاندلی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کو سابق نگراں وزیرِاعظم اور چاروں نگراں صوبائی وزراء اعلیٰ کو بلانے کا بھی اختیار ہوگا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں جن جن حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے وہاں پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اس کے علاوہ جو ارکان اسمبلی دھاندلی کے ذریعے کامیاب ہوئے ہیں اُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور پارلیمانی کمیٹی مختصر مدت میں تمام حقائق کو سامنے لے کر آئے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کمیٹی کی تشکیل اور اُس کے ٹرمز آف ریفرنس طے کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس سولہ اگست کو طلب کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے جن چار حلقوں میں انگھوٹوں کے نشان کے ذریعے ووٹوں کی جانچ پڑتال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اُن میں سے چار حلقے صوبہ پنجاب سے ہیں۔ ان حلقوں میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، سنئیر نائب صدر حامد خان کے علاوہ جہانگیر ترین ناکام رہے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گیارہ مئی کو ملک میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کر رکھا ہے اور اُنہیں اُٹھائیس اگست تک تفصیلی جواب داخل کروانے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں