کراچی: جھڑپ میں ڈی ایس پی سمیت چھ افراد ہلاک

Image caption جھڑپ میں ڈی ایس پی قاسم غوری ، ای ایس آئی آصف اور ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک جبکہ دو ایس ایچ اوز زخمی ہوگئے: ایس پی عمران شوکت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس اور مبینہ جرائم پیشہ افراد کے درمیان جھڑپ کے دوران ایک ڈی ایس پی سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ جھڑپ کئی گھنٹے جاری رہی۔

کراچی شہر کے علاقے گلشن اقبال میں سفاری پارک کے نزدیک صبح سے فائرنگ کا سلسہ شروع ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کچی آبادی میں موجود تھے جو بعد میں پبلک پارک میں داخل ہوگئے۔

ایس پی عمران شوکت کا کہنا ہے صبح چھ بجے پولیس نے ملزمان کا گھیراؤ کیا تھا، پولیس نے مزید نفری طلب کی اور اس دوران ملزمان کے فرار ہونے کی تمام کوششیں ناکام بنا دیں گئیں ۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کا تعلق محمد پریل گروپ سے ہے۔ یہ گروپ کراچی کے علاوہ اندرون سندھ میں بھی ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔

ایس پی عمران شوکت کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ جیسے ہی پولیس موقع پر پہنچی تو فائرنگ شروع ہوگئی جس میں ڈی ایس پی قاسم غوری ، ای ایس آئی آصف اور ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک جبکہ دو ایس ایچ اوز زخمی ہوگئے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس مقابلے میں تین مبینہ ملزم ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ رینجرز نے بھی ایک ملزم کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ ہے۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی دو سے تین لاشیں جائے وقوع پر پڑی رہی،جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی مزید نفری طلب کرکے مبینہ ملزمان کی طرف پیش قدمی کی گئی۔

اس مقابلے میں پولیس کو بڑا جانی نقصان ہوا ہے، جس کے بعد پولیس اہلکار کافی جذباتی نظر آرہے ہیں۔ ایس پی عمران شوکت نے اپنے عزائم کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔

’میرا ڈی ایس پی شہید ہوا ہے، ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے، جو بھی ہم سے مقابلہ کرے گا ہم انھیں کہہ رہے ہیں کہ ہتھیار ڈالیں اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو انھوں نے ڈی ایس پی کو شہید کیا ہے ہم ان سے مقابلہ کریں گے۔‘

یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ بیس ماہ میں جرائم پیشہ افراد سے مقابلوں اور حملوں میں 91 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں ایس پی سے لے کر کانسٹیبل رینک کے اہلکار شامل ہیں۔

سفاری پارک میں تین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد رواں سال ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پچیس ہوگئی ہے۔

دوسری جانب قوم پرست جماعت جئے سندھ متحدہ محاذ اور جئے سندھ تحریک کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ان کے کارکن تھے، جنہیں ریاستی اداروں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت گرفتار کر کے ہلاک کیا ہے۔

جئے سندھ متحدہ محاذ کے سینئر نائب صدر لالہ اسلم پٹھان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چودہ اگست کو ان کی جماعت نے یوم سیاہ کے طور پر منایا، جس پر ریاستی اداروں نے سندھ بھر میں ان کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، جس میں ڈیڑھ سو کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے ڈاکو قرار دیے گئے ضامن شاھ ان کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے، جبکہ امیر بخش چاچڑ اور امید علی ڈھر جئے سندھ تحریک کے کارکن اور ضامن شاھ کے دوست تھے۔

اسلم پٹھان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تین پولیس اہلکاروں کے قتل کی بھی مذمت کرتے ہیں اور ان سب کے قتل میں پاکستان کے ریاستی ادارے ملوث ہیں۔’ ہم سندھو دیش کی آزادی کے متوالے ہیں ایسی کارروایاں ہمیں اپنے مقصد سے ہٹا نہیں سکتیں۔،

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آزادی کے دن احتجاج کرنے کے الزام میں گرفتار کارکنوں کی زندگی کے بارے میں انہیں خدشات ہیں کہ کہیں انہیں بھی اسی طرح جعلی مقابلوں میں ہلاک نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں