چین کو گوادر سے ملانے والی نئی شاہراہ کی منظوری

Image caption وزیرِاعظم نواز شریف نے چین کے حالیہ دورے میں چین کے ساتھ متعدد کاروباری معاہدوں پر دستخط کیے تھے

وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں چین کو گوادر کے ساتھ منسلک کرنے والی نئی شاہراہ بنانے کے علاوہ بعض دیگر اہم شاہراہوں کی تعمیر کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق منصوبہ بندی کمیشن میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیرخزانہ اسحٰق ڈار، منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیراطلاعات پرویز رشید، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی شریک تھے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق جن نئی سڑکوں کی منظوری دی گئی ہے ان میں سر فہرست پاک چین اقتصادی راہداری کے نام سے ایک نئی شاہراہ ہے جسے قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس سڑک کو چین اور پاکستان کے درمیان مختصر اور زیادہ قابل اعتماد راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خنجراب کے مقام سے شروع ہونے والی یہ سڑک قراقرام ہائی وے کے روایتی راستے کے بجائے چلاس، بابو سر ٹاپ، کاغان، ناران اور بالاکوٹ سے ہوتی ہوئی مانسہرہ پہنچے گی۔

وزیراعظم نے بابو سر کے مقام پر سارا سال اس سڑک کو قابل استعمال بنانے کے لیے سرنگ بنانے کی بھی منظوری دی ہے۔

اس سڑک پر فاصلہ مزید کم کرنے کی غرض سے وزیراعظم نے حویلیاں اور اسلام آباد کے درمیان ایک نئی سڑک بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وزیراعظم نے اسی شاہراہ سے ایک ذیلی سڑک بھی تعمیر کرنے کی منظوری دی جو گڑھی حبیب اللہ سے ہوتی ہوئی، بالاکوٹ اور مظفر آباد کو ملائے گی۔

اجلاس میں مظفر آباد اور میرپور کے درمیان بھی ایک سڑک بنانے کی منظوری دی گئی جو ان دونوں شہروں کا فاصلہ ڈیڑھ سو کلومیٹر کم کرنے کے علاوہ انہیں دینہ کے مقام پر جی ٹی روڈ سے بھی منسلک کردے گی۔

وزیراعظم کو کراچی لاہور موٹروے کے روٹ میں ترمیم کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جس کے مطابق اب ایم ٹو نامی یہ سڑک خانیوال، ملتان، سکھر، خیرپور اور دادو سے بھی گزرے گی۔

وزیراعظم نے پاک چین اقتصادی شاہراہ، انڈس ہائی وے، موٹرویز اور جی ٹی روڈ کے درمیان رابطہ سڑکیں بنانے کی بھی ہدایت کی۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے ان شاہراہوں کی تعمیر کے دوران ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم سے کم رکھنے کی ہدایت کی۔

اسی بارے میں