پشاور: اے این پی کی خاتون رہنما قتل

Image caption نجمہ حنیف گیارہ مئی کے انتخابات میں اے این پی کی جانب سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر امیدوار تھیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما نجمہ حنیف کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب پشاور کے متمول علاقے حیات آباد میں پیش آیا۔

حیات آباد تھانے کے ایک اہلکار خان محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد نے اے این پی کی مقامی خاتون رہنما نجمہ حنیف کے گھر میں گھس کر ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متقولہ کو سر میں ایک گولی ماری گئی ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور سارا علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ تاہم ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ادھر اس واقعہ کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی تنظیم نے تاحال اسکی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ مقتولہ نجمہ حنیف کا تعلق ضلع صوابی سے بتایا جاتا ہے۔ وہ گیارہ مئی کے عام انتخابات میں اے این پی کی طرف سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر امیدوار رہ چکی ہیں۔

مقتولہ کے شوہر اور اے این پی کے رہنما حنیف گل جدون بھی دو سال پہلے عید کے دن صوابی میں اپنے بیٹے اور محافظ سمیت خودکش حملے میں مارے گئے تھے۔ وہ صوابی کے ناظم بھی رہ چکے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اے این پی کے تقریباً پانچ سو کے قریب رہنما اور پارٹی کارکن شدت پسندوں کے حملوں میں مارے جاچکے ہیں۔ مرنے والوں میں اے این پی کے چند وزراء اور اراکین اسمبلی بھی شامل تھے۔

ان میں بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان قبول کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں