بولان: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 ہلاک

Image caption ایف سی کے مطابق آپریشن کے دوران اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جو تین گدھوں پر لدھا ہوا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان میں ٹرین حملے کے بعد حکام نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران آٹھ افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ ٹرین پر حملے میں ملوث تھے۔

فرنٹیئرکور بلوچستان کے ترجمان کے مطابق جمعہ کے روز جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بولان کے علاقے دوزان میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا ۔

اس کارروائی کے بارے میں ڈپٹی کمشنر کچھی وحید شاہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں’ہیلی کاپٹر نے شیلنگ کی تھی۔ کل رات پائلٹس اور سکیورٹی فورسز نے ہمیں بتایا کہ اس علاقے میں آٹھ افراد ہلا ک ہوئے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آج صبح سرچ پارٹی روانہ کردی گئی۔ وہاں سے اب تک دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ان لاشوں کو پہلے سول ہسپتال مچھ اور بعد میں کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔‘

ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ا س علاقے میں سنیچر کے روز اس آپریشن کے دوران سلحہ بھی برآمد کیا گیا جو تین گدھوں پر لدا ہوا تھا۔

بولان کے دیگر علاقوں میں عید کے روز شروع سے کیے جانے والے سرچ آپریشن میں حکام نے دس سے زائد افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سرکاری حکام کے دعوؤں کے برعکس بلوچ نیشنل وائس کادعویٰ ہے کہ ہلاک کیے جانے والے لوگ نہتے تھے اور ان میں بعض ایسے بھی افراد شامل تھے جنہیں پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

تنظیم کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں چار افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان چار افراد میں سے سلیم مری اور میرو خان مری چار ماہ قبل جبکہ لمبہ مری اوردادو مری کو سات مہینے قبل حکومتی اداروں نے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے غائب کیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کچھی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ظاہر ہے یہ لوگ اس طرح کے الزام لگائیں گے کیونکہ ان کے لوگ ملوث تھے لیکن یہاں سکیورٹی فورسز نے جو کارروائی کی اس میں مرنے والے تمام لوگ مقابلے میں مارے گئے۔‘

دوسری جانب قلات کے علاقے سوراب میں تین افراد کو اغواء کیا گیا ہے۔

لیویز فورس کے حکام کے مطابق ان تینو کو نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا ہے۔

اسی بارے میں